آیت اللہ خامنہ ای کے جنازہ کی تہران بھر میں گشت ‘ آج شہر قم لے جایا جائے گا
لاکھوں ایرانی عوام کا ہجوم شامل ۔ قم کے بعد جسد خاکی کو نجف اور کربلائے معلی بھی لے جایا جائے گا ۔ 9 جولائی کو تدفین تہران، 6 جولائی (یو این آئی) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی آج بذریعہ ہیلی کاپٹر تہران سے قُم لے جایا جائیگا۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں خاندان سمیت

لاکھوں ایرانی عوام کا ہجوم شامل ۔ قم کے بعد جسد خاکی کو نجف اور کربلائے معلی بھی لے جایا جائے گا ۔ 9 جولائی کو تدفین تہران، 6 جولائی (یو این آئی) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی آج بذریعہ ہیلی کاپٹر تہران سے قُم لے جایا جائیگا۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں خاندان سمیت شہید سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور سوگ اجتماعات جاری ہیں۔ کل تہران میں تین مقامات پر شہید رہبر معظم کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس کے بعد آج ان کا جسد خاکی قُم لے جایا جائے گا۔ قُم میں نماز جنازہ اور عوامی آخری دیدار کے بعد کے بعد جسد خاکی کو تدفین سے قبل عراق کے شہر نجف اور کربلا معلیٰ لے جایا جائے گا، جہاں لاکھوں لوگ ان کا آخری دیدار کر سکیں گے ۔ عراق سے شہید کی میت کو ان کے آبائی شہر مشہد لایا جائے گا جہاں 9 جولائی کو انہیں امام رضا کے روضہ کے احاطہ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز تہران کے بڑے مذہبی مرکز امام خمینی مصلیٰ میں سابق سپریم لیڈر، ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری، بہو زہرا حداد عادل اور ان کی معصوم نواسی زہرا محمدی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ یہ جنازہ مشہور عالمِ دین آیت اللہ جعفر سبحانی نے تین مراحل میں پڑھایا۔ شہید رہبر معظم کی مرکزی نماز جنازہ میں ڈیڑھ کروڑ کے قریب افراد نے شرکت کی تھی، اسکے علاوہ تقریباً 100 ممالک کے وفود بھی شریک تھے ۔ اس جنازے میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سمیت ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت شریک ہوئی۔ شہید رہنما کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای پہلی صف میں موجود تھے ، تاہم ان کے چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سکیورٹی کے سخت خدشات کی وجہ سے والد کے جنازے میں شامل نہیں ہو سکے ۔ شیہد آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسد خاکی تین روز سے عوام کے دیدار کیلیے تہران کے مصلیٰ امام خمینی کمپلیکس میں رکھا گیا، جہاں کروڑوں افراد نے آخری دیدار کر کے انہیں آنسوؤں اور سسکیوں کے ساتھ الوداع کہا۔قبل ازیں آج دن میں جلوس جنازہ تہران کے مختلف مقامات سے گذارا گیا ۔ ایک گاڑی میں شہید رہبر اعلی اور ان کے افراد خاندان کی میتوں کے تابوت رکھے تھے اور جلوس کو تہران کے مختلف علاقوں سے گذارا گیا ۔ اس موقع پر لاکھوں کی تعداد میں عوام موجود تھے ۔اس دوران ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور علی خامنہ ای کے جنازہ سے دوسرے دن بھی غائب رہے ، حالانکہ ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت تقریب میں شریک تھی۔ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران بڑا سوال یہ رہا کہ ان کے جانشین اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای مسلسل دوسرے دن جنازے میں نظر نہیں آئے ۔ ان کی غیر موجودگی نے ان کی صحت ، سیکیورٹی اور قیادت کے مستقبل پر نئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔ علی خامنہ ای کے تینوں بیٹوں نے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور سرکاری ٹیلی ویژن نے مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای سمیت اعلیٰ سرکاری شخصیات کے مناظر دکھائے ۔