غزہ کی حکومتی کمیٹی تحلیل کرنے پرحماس آمادہ، نئی راہ ہموار
غزہ سٹی، 6 جولائی (ایجنسیز) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی حکمرانی سنبھالنے والی اپنی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس کے بعد ایک غیر سیاسی اور ماہرین پر مشتمل فلسطینی قومی کمیٹی کو شہری انتظام سنبھالنے کا موقع ملے گا۔ حماس کے دو عہدیداروں نے نام ظاہ

غزہ سٹی، 6 جولائی (ایجنسیز) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کی حکمرانی سنبھالنے والی اپنی انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس کے بعد ایک غیر سیاسی اور ماہرین پر مشتمل فلسطینی قومی کمیٹی کو شہری انتظام سنبھالنے کا موقع ملے گا۔ حماس کے دو عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تنظیم نے غزہ حکومت کی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک ایسی قومی شخصیت کو مقررکیا جائے گا جو عبوری طور پر انتظامی امورکی نگرانی کرے گی، یہاں تک کہ غزہ انتظامیہ کی قومی کمیٹی (این سی اے جی) باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ یہ اقدام حماس کی جانب سے ایک اہم سیاسی تبدیلی تصورکیا جا رہا ہے۔ حماس نے2007 میں حریف جماعت فتح سے غزہ کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے وہاں کی حکمرانی سنبھال رکھی ہے۔گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے بعد حماس کئی بار یہ اعلان کر چکی ہے کہ وہ روزمرہ کے حکومتی معاملات سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم تنظیم کے ہتھیاروں سے دستبرداری کا معاملہ اب بھی حل طلب ہے۔غزہ میں حماس کے میڈیا دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے پر ایک اہم پریس کانفرنس کی جائے گی، تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ حماس کے ایک اور عہدیدارکے مطابق قاہرہ میں حالیہ ملاقات کے دوران تنظیم نے دیگر فلسطینی دھڑوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ ان کے بقول تمام فلسطینی جماعتوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کو اختیارات منتقل کرنے کی جانب ایک سنجیدہ پیش رفت قراردیا۔حماس کی انتظامی کمیٹی کی تحلیل کے بعد علی شعث کی سربراہی میں قائم غزہ انتظامیہ کی قومی کمیٹی کے لیے شہری اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔یہ کمیٹی بورڈ آف پیس کے تحت قائم کی گئی تھی، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد تشکیل دیا تھا۔ تاہم اسرائیلی اعتراضات کے باعث یہ کمیٹی کئی ماہ سے غزہ سے باہر ہی کام کررہی ہے۔دوسری جانب حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ثالثوں کی موجودگی میں متعدد مذاکرات کیے ہیں تاکہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر اختلافات کم کیے جا سکیں۔جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس کے پاس موجود آخری اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو آزاد کیا گیا تھا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کے ہتھیاروں سے دستبرداری اور اسرائیلی افواج کے بتدریج غزہ سے انخلا کا منصوبہ شامل ہے، لیکن یہ مرحلہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔