اترپردیش میں سیاسی ماحول کی گرمی
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے میں ریاست میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی اور شدت پیدا ہوتی نظر آرہی ہے ۔ عوامی سطح پر حالانکہ ابھی ان سرگرمیوں کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دے رہا
پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے خبردار سے ہیںشام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیںملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور ایسے میں ریاست میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی اور شدت پیدا ہوتی نظر آرہی ہے ۔ عوامی سطح پر حالانکہ ابھی ان سرگرمیوں کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے تاہم درپردہ سرگرمیوں میں تیزی اور شدت آگئی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اور قائدین اپنے اپنے طور پر تیاریوں میں مصروف ہوگئے ہیں ۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ بی جے پی اور سماجوادی پارٹی میں ہونے والا ہے ۔ سماجوادی پارٹی کیساتھ کانگریس اور کچھ مقامی جماعتیں بھی اتحاد کا حصہ ہوسکتی ہیں جبکہ بی جے پی کے ساتھ بھی یہی صورتحال ہے اورکچھ مقامی جماعتیں اس کے ساتھ مل کر مقابلہ کرسکتی ہیں۔ دو بڑی جماعتیں اپنی حلیف جماعتوں کو نشستوں کی فراہمی ‘ کن حلقوں سے مقابلہ کرنا ہے اس کو قطعیت دینے اور اپنے طورپر امیدواروں کی اسکریننگ کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔ جو امیدوار ٹکٹ کے خواہشمند ہیں وہ بھی اپنے لئے حالات بنانے اور سازگار کرنے میں مصروف ہیں۔ انتخابات کی تیاریوں اور امکانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ اور سماجوادی پارٹی سربراہ اکھیلیش یادو سرگرم ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے لگاتار عوامی ریلیوں کا انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ کئی پروگرامس میں شرکت کی جار ہی ہے ۔ کچھ اسکیمات کا بھی اعلان ہو رہا ہے اور عوام سے رابطوں کو بحال کرنے پر توجہ مرکوز کردی گئی ہے ۔ دوسری جانب سماجوادی پارٹی سربراہ اکھیلیش یادو بھی پارٹی صفوں میں استحکام پیدا کرنے اور قائدین اور کیڈر کو متحرک و سرگرم کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اس طرح سیاسی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل اس ریاست میںسرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور آئندہ دنوں میںا ن میںمزید تیزی اور شدت پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ جو مقامی جماعتیں ہیں وہ بھی اپنے طور پر اپنی صفوںکو سرگرم بنانے کیلئے منصوبہ بندی کرنے لگی ہیں اور تیاریاں شروع ہوچکی ہیں ۔جہاں تک اترپردیش اسمبلی انتخابات کا سوال ہے تو بی جے پی کیلئے بظاہر تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک نظر آ رہا ہے لیکن جملہ حالات پارٹی کے حق میں بہتر دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ خاص طور پر رام مندر میں چندہ چوری کے مسئلہ پر عوام میں ایک طرح کی بے چینی کی فضاء پیدا ہوگئی ہے ۔ خاص طور پر گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں ریاست میں جس طرح سے بی جے پی کو عوام نے مسترد کیا ہے اس کے بعد سے سماجوادی پارٹی اور کانگریس کیڈر کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ رام مندر چندہ چوری کے بعد ایسا تاثر عام ہونے لگا ہے کہ بی جے پی کیلئے ہندوتوا کا مسئلہ اس بار شائد اترپردیش میں کارگر اور مفید ثابت نہیں ہوگا ۔ بی جے پی کا جو تھنک ٹینک ہے اس کیلئے اب یہ ذمہ داری عائد کردی گئی ہے کہ وہ دوسرے مسائل کی نشاندہی کرے تاکہ انتخابات کے دوران انہیں موضوع بحث بنایا جاسکے تاکہ رائے دہندوں کو الجھانے میں مدد مل سکے ۔ رام مندر چندہ چوری کا مسئلہ آسانی کے ساتھ عوام کے ذہنوں سے محو ہونے کے امکانات نطر نہیں آ رہے ہیں۔ خاص طور پر اس حال میں جبکہ مندر ٹرسٹ کے ذمہ داروں میں مرکزی اور ریاستی دونوں ہی حکومتوں کے نمائندے شامل ہیں۔ ایسے میں بی جے پی اس سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ حالانکہ بی جے پی خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش ضرور کر رہی ہے لیکن مختلف گوشوں سے ان دونوں ہی حکومتوں پر ذمہ داری عائد کی جا رہی ہے ۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بی جے پی کی جانب سے عوام کی توجہ ہٹانے اور بھٹکانے کیلئے کسی اور مسئلہ کو ہوا دی جاسکتی ہے ۔ کچھ نئی منصوبہ بندی اور حکمت عملی تیار کی جاسکتی ہے ۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے زیادہ تر چندہ چوری کے مسئلہ کو ہی ہوا دینے کی حکمت عملی بنائی جاسکتی ہے ۔ جو سرگرمیاں اب زمین کے نیچے چل رہی ہیں وہ بہت جلد زمین کے اوپر بھی دکھائی دینے لگیں گی ۔ اس صورتحال میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مقابلہ دلچسپ اور سخت بھی ہوسکتا ہے ۔