نابالغ لڑکی عصمت دری و قتل کیس: ایس آئی ٹی کو اہم ڈیجیٹل ثبوت دستیاب
کلیدی ملزم آنند سرکار نے جرم کی منصوبہ بندی کی تھی ۔ دو افراد نے مدد کیباروئی پور، 7 جولائی (یجنسیاں):مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور میں 12 سالہ نابالغ لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور قتل کیس کی تحقیقات کے دوران خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو اہم ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں، جن سے ابتدائی طور پر یہ اشار

کلیدی ملزم آنند سرکار نے جرم کی منصوبہ بندی کی تھی ۔ دو افراد نے مدد کیباروئی پور، 7 جولائی (یجنسیاں):مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور میں 12 سالہ نابالغ لڑکی کی مبینہ عصمت دری اور قتل کیس کی تحقیقات کے دوران خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو اہم ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں، جن سے ابتدائی طور پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ واردات پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی تھی۔ باروئی پور ضلع پولیس کے مطابق گرفتار تینوں ملزمان کے موبائل فون ٹاور لوکیشن ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ 4 جولائی کی شام 4:30 بجے سے رات 11 بجے تک تینوں ایک علاقے میں موجود تھے، جو مبینہ جرم کے وقت سے مطابقت رکھتا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کے مطابق وہ 4 جولائی کی شام تقریباً 6 بجے لاپتہ ہوئی تھی، جبکہ اگلی صبح 5 جولائی کو اس کی لاش باروئی پور کے تالاب سے برآمد ہوئی۔ تحقیقات میں شامل ذرائع کا کہنا ہے کہ کال ڈیٹیل ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی ملزم آنند سرکار نے مبینہ طور پر جرم کی منصوبہ بندی کی، جبکہ دیگر دو ملزمان پراواس منڈل اور دیباکر سردار نے اس پر عمل کیا۔ پولیس نے پراواس منڈل اور دیباکر سردار کو باروئی پور عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے دونوں کو 14 روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔ مرکزی ملزم آنند سرکار کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد پولیس اس کے ریمانڈ کی درخواست کرے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تینوں ملزمان سے مشترکہ پوچھ گچھ کے ذریعے تفصیلات جاننے کی کوشش کی جائے گی۔ قومی خواتین کمیشن نے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مغربی بنگال کے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے سات دن میںتفصیلی ایکشن ٹیکن رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن نے پی او سی ایس او ایکٹ اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی، ملزمان کی گرفتاری، تحقیقات فارنسک و پوسٹ مارٹم رپورٹ، متاثرہ خاندان کو فراہم کی گئی امداد اور مبینہ ہجوم کے تشدد سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔