ووٹرس فارمس کی تقسیم میں مجرمانہ غفلت، حقیقی ووٹرس کو فارمس دستیاب نہیں ہوئے
شہر اور مضافاتی اضلاع میں ایک گھر ، خالی پلاٹ اور فرضی فلیٹس میں 100 سے 200ووٹحیدرآباد میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے 27ارکان انتخابی عملہ کو نوٹس ، ایک گھر میں کئی افراد فارمس سے محرومحیدرآباد :6جولائی ( سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص گریٹر حیدرآباد اور اس کے مضافاتی اضلاع میں الیکشن کمیشن کی جانب س

شہر اور مضافاتی اضلاع میں ایک گھر ، خالی پلاٹ اور فرضی فلیٹس میں 100 سے 200ووٹحیدرآباد میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے 27ارکان انتخابی عملہ کو نوٹس ، ایک گھر میں کئی افراد فارمس سے محرومحیدرآباد :6جولائی ( سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص گریٹر حیدرآباد اور اس کے مضافاتی اضلاع میں الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جانے والی ووٹر لسٹ جامع نظرثانی (SIR) مہم میں ایسا چونکا دینے والا تضاد سامنے آیا جس نے پورے انتخابی اور سیاسی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔ ایک طرف شہر کے اصلی اور حقیقی ووٹرس اپنے دستوری حق یعنی اینومریشن فارمس کیلئے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں تو دوسری طرف شہر اور مضافاتی اضلاع میں ایسے خالی پلاٹ اور فرضی فلیٹس اورر مکانات پائے گئے ہیں جہاں بغیر کسی مکان کے 100 تا 200 سے زائد فرضی ووٹ رجسٹرڈ ہیں ۔ زمینی سطح پر انتخابی عملہ کی اس غفلت اور بے ضابطگیوں نے حیدرآباد کے لاکھوں شہریوں کو شدید ذہنی پریشانی اور الجھن میں مبتلا کردیا ہے ۔ ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی مہم کے دوران سب سے مضحکہ خیز اور تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد کو بڑی بے رحمی سے تقسیم کردیا گیا ہے ۔ کئی علاقوں سے یہ سنگین شکایات موصول ہوئی ہیں کہ اگر گھر میں شوہر کو فارم دستیاب ہورہا ہے تو اس کی بیوی کا فارم نہیں مل رہا ہے ۔ اگر بیوی کا فارم مل رہا تو بالغ بچوں کا دستیاب نہیں ہورہا ہے،حد تو یہ ہے کہ ایک ہی گھر کے ارکان کے ناموں کو بغیر کسی اطلاع کے دوسرے پولنگ بوتھس پر منتقل کردیا گیا ہے ۔ اس انتخابی انتشار کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے لوگوں کے (BLOS) بھی الگ الگ ہوگئے ہیں ۔ اب صورتحال یہ ہیکہ ایک ہی گھر کے افراد کو اپنے ووٹوں کی تصدیق کیلئے دو سے تین مختلف بی ایل اوز سے رابطہ قائم کرنا پڑرہا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے واضح قوانین کے مطابق بی ایل اوز کو خود ہر شہری کے گھر جاکر یہ فارم فراہم کرنا چاہیئے لیکن یہ عملہ گھر ڈھونڈ کر وہاں پہنچنے کی بالکل بھی زحمت نہیں کررہا ہے بلکہ وہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر ، کمیونٹی ہال یا اپنے گھروں کے علاوہ کئی مخصوص مقامات پر آرام سے بیٹھ کر فارمس تقسیم کررہے ہیں ۔جب پریشان حال شہریوں کی جانب سے انہیں فون کیا جارہا ہے تو بی ایل اوز انہیں کسی خاص مقام یا چوراہے پر آکرفارم خود لے جانے کا حکم دے رہے ہیں یا پھر انتہائی غیر ذمہ داری سے یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کا فارم (Missing) ہے ، ہمارے پاس نہیں ہے ۔ بی ایل اوز کی اس غفلت اور لاپرواہی سے شہر کے کئی حصوں میں فارمس تقسیم نہیں ہوپائے ہیں ، الیکشن کمیشن نے سخت نوٹ لیا ہے اور فارمس کی تقسیم میں سستی پر تاحال 27 انتخابی ارکان عملہ کو پہلے انتباہ کے ساتھ نوٹس جاری کیا ہے ۔ دوسری مرتبہ غلطی کرنے پر معطل کردینے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ ضلع حیدرآباد میں ابھی تک 66.98 فیصد ، ضلع رنگاریڈی میں 82.23 فیصد ، ضلع میڑچل ملکاجگری میں 63.55 فیصد فارمس تقسیم ہوئے ہیں ۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن نے تمام انتخابی عملے پر زور دیا کہ وہ فارمس کی تقسیم میں کسی قسم کی کوتاہی اور لاپرواہی نہ کریں اور صدفیصد فارمس کی تقسیم کو یقینی بنائیں ، بصورت دیگر ذمہ داریوں سے کوتاہی کرنے والے عملے کے خلاف کارروائی کی جائیگی ۔2