انقرہ سربراہی اجلاس سے قبل نیٹو کو اندرونی اختلافات کا سامنا
انقرہ، 6 جولائی (آئی اے این ایس) شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے رہنما اس ہفتے انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم اتحاد ایسے وقت میں یکجہتی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے جب دفاعی اخراجات، اسٹریٹجک ترجیحات اور تنظیم کے مستقبل کے کردار پر رکن ممالک کے درمیان اختلافات

انقرہ، 6 جولائی (آئی اے این ایس) شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے رہنما اس ہفتے انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم اتحاد ایسے وقت میں یکجہتی کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے جب دفاعی اخراجات، اسٹریٹجک ترجیحات اور تنظیم کے مستقبل کے کردار پر رکن ممالک کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ منگل اور چہارشنبہ کو ہونے والے اس اجلاس سے قبل ایران کے خلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائی، دفاعی بجٹ میں بڑے اضافے کے منصوبوں اور یورپ کے مختلف ممالک میں نیٹو کے خلاف بڑھتی عوامی تنقید نے اتحاد کے اندر پائے جانے والے اختلافات کو مزید واضح کردیا ہے۔ تازہ اختلافات اس وقت سامنے آئے جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر فوجی حملے کیے۔ اگرچہ نیٹو کے کئی رکن ممالک نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے امریکی مؤقف کی سیاسی حمایت کی، تاہم کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی کارروائی میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں کے لیے نیٹو اتحادیوں کی جانب سے جنگی بحری جہاز نہ بھیجنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک امریکی سکیورٹی ضمانتوں سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں لیکن فوجی کارروائیوں کے خطرات مول لینے سے گریزکرتے ہیں۔انقرہ کے سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے سینئر محقق اویتن اورہان کے مطابق بیشتر یورپی ممالک نے ایران پر امریکی حملوں کو واشنگٹن سے اظہارِ یکجہتی کے بجائے خطے کے استحکام کے تناظر میں دیکھا۔انہوں نے کہا کہ براہ راست فوجی مداخلت سے یورپی ممالک کو ممکنہ جوابی حملوں، توانائی کی فراہمی میں خلل اور مہاجرین کے دباؤ جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا، جبکہ وہ پہلے ہی داخلی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ خارجہ امور کے تجزیہ نگار سرکان دمیرتاش نے کہا ہے کہ عراق، افغانستان اور لیبیا کی جنگوں کے تجربات کے بعد یورپی حکومتیں اب ایسی فوجی کارروائیوں میں شامل ہونے سے گریزکرتی ہیں جنہیں وسیع بین الاقوامی حمایت اور واضح مقاصد حاصل نہ ہوں۔ اجلاس میں گزشتہ سال ہیگ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے فیصلے پر بھی غورکیا جائے گا، جس کے تحت تمام رکن ممالک نے 2035 تک اپنے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا پانچ فیصد دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے کا ہدف مقررکیا تھا۔ اس ہدف کو ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ نیٹو 3.0 منصوبے کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد یورپ کے روایتی دفاع کی بنیادی ذمہ داری امریکہ سے منتقل کرکے یورپی ممالک کو دینا ہے۔ ٹرمپ پہلے بھی خبردارکر چکے ہیں کہ اگر اتحادی دفاعی اخراجات میں اضافہ نہ کریں تو امریکہ اپنی سکیورٹی ضمانتوں پر نظرثانی کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ تمام رکن ممالک کے لیے اس ہدف کو حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق کئی یورپی ممالک سست معاشی ترقی، بڑھتے ہوئے سرکاری قرضوں اور عمر رسیدہ آبادی جیسے مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ عوام صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کو دفاعی اخراجات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اجلاس سے قبل انقرہ، استنبول اور ازمیر سمیت مختلف شہروں میں نیٹو مخالف مظاہرے بھی کیے گئے۔