تلنگانہ سکریٹریٹ میں ’’چائے۔ ناشتہ‘‘ اسکام کا پردہ فاش
فوری اثر کے ساتھ عہدیداروں اور عملے کے لنچ کی سپلائی پر مکمل پابندی حیدرآباد۔ 8 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ سکریٹریٹ میں عہدیداروں کے چیمبرس میں چائے، کافی اور ناشتے کے بلوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور بوگس بلنگ کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ چیف منسٹر آفس سکریٹریز، چیف سک

فوری اثر کے ساتھ عہدیداروں اور عملے کے لنچ کی سپلائی پر مکمل پابندی حیدرآباد۔ 8 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ سکریٹریٹ میں عہدیداروں کے چیمبرس میں چائے، کافی اور ناشتے کے بلوں میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں اور بوگس بلنگ کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ چیف منسٹر آفس سکریٹریز، چیف سکریٹریز اور سی پی آر او دفاتر میں کام کرنے والے عہدیدار اور عملہ روزانہ ان سے ملاقات کرنے کے لئے پہنچنے والے مہمانوں کے نام پر ہر ماہ ہزاروں کپ چائے اور کافی کا فرضی بل بناکر سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا چونا لگارہے ہیں۔ جب محکمہ پروٹوکال کے اعلیٰ عہدیداروں نے کنٹراکٹ ایجنسی کی جانب سے جمع کرائے جانے والے تازہ ترین بلز کی باریک بینی سے جانچ کی تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ ان کے دفاتر میں روزانہ سینکڑوں کپ چائے پینے کا مبالغہ آمیز ریکارڈ دکھایا گیا ہے۔ اس سنگین بدعنوانی اور سرکاری سہولیات کے کھلے غلط استعمال پر فوری اثر کے ساتھ عہدیداروں اور عملے کو سرکاری خرچ پر ملنے والے دوپہر کے کھانے اور ناشتے کی سپلائی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی اور چائے کے بلز کی ادائیگی روک کر اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ان دفاتر کے ہر سیکشن میں اوسطاً 10 سے 12 افراد کا اسٹاف ہوتا ہے اور 15 سے 20 مہمان ملاقات کے لئے آتے ہیں اگر یہ تمام لوگ دن میں دو بار بھی چائے پیتے ہیں تو ماہانہ اوسطاً 1500 سے 1600 کپ چائے بنتی ہے لیکن کنٹراکٹ کمپنی (ایجنسی) نے جو فائنل بل جمع کرائے ہیں ان کے چونکادینے والے اعداد و شمار زمینی حقیقت سے بالکل میل نہیں کھا رہے ہیں۔ بلز کے مطابق سی پی آر او آفس میں ہر ماہ تقریباً 10 ہزار کپ چائے ؍ کافی چیف سکریٹری کے دفتر میں 8 ہزار کپ اور دیگر سکریٹریز کے عملے کے نام پر 4 سے 5 ہزار کپ سپلائی کئے گئے۔ اگر ان بلز کو سچ مانا جائے تو روزانہ 200 سے 300 مہمانوں کا ان دفاتر میں آنا اور چائے پینا لازمی ہے جوکہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ سینئر عہدیداروں کو شبہ ہے کہ کنٹراکٹ ایجنسی نے چائے اور کافی پاؤڈر، دودھ، شکر کی بہت کم سپلائی کی اور اندرونی ملی بھگت سے لاکھوں روپے کے فرضی بلز بناکر منظور کروایا۔ دوسری طرف سکریٹریٹ کے حلقوں میں یہ بھی بحث عام ہے کہ حکومت کی طرف سے بلز کی ادائیگی میں مہینوں کی تاخیر کی وجہ سے کنٹراکٹ ایجنسیاں جان بوجھ کر زائد اور فرضی بل جمع کروانا اپنا معمول بناچکی ہیں تاکہ وہ بلز کو سود سمیت وصول کرسکیں۔ 2؍F