ملک میں انصاف، خطرہ بن گیا: جسٹس مارکنڈے کاٹجو
جج کے مذہب کو بنیاد بناکر دھمکیاں، میں جج تبسم خاں اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہوں حیدرآباد ۔8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) نامور قانون داں اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے مدھیہ پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خاں کو فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے مذہبی بنیاد پر ہراساں اور دھمکانے کی س

جج کے مذہب کو بنیاد بناکر دھمکیاں، میں جج تبسم خاں اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہوں حیدرآباد ۔8 ۔ جولائی (سیاست نیوز) نامور قانون داں اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے مدھیہ پردیش کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تبسم خاں کو فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے مذہبی بنیاد پر ہراساں اور دھمکانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ملک میں جارحانہ فرقہ پرست عناصر بے لگام ہوچکے ہیں اور انصاف کو بھی مذہب کی عینک سے دیکھا جارہا ہے۔ تبسم خاں نے ماب لنچنگ کیس میں ملوث ملزمین کو سزا سنائی تھی جس کے فوری بعد ان کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز کردیا گیا ۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ ہندوستان اب ججس کیلئے بھی محفوط نہیں رہا ہے ۔ خاص طور پر اگر کوئی جج مسلمان ہو اور وہ انصاف کرے تو اسے ہراساں کرتے ہوئے انصاف کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ 2022 کے ماب لنچنگ مقدمہ میں تبسم خاں نے کئی ملزمین کو قید کی سزا سنائی۔ 2 اگست 2022 کی رات گاؤ رکھشکوں نے جانوروں کو لے جانے والے ایک ٹرک اور اس کے ساتھ موجود تین افراد پر حملہ کردیا اور بری طرح مار پیٹ کی گئی۔ حملہ میں نذیر احمد نامی شخص کی موت واقع ہوئی جبکہ دیگر دو زخمی ہوگئے۔ چار سال بعد جج تبسم خاں نے شواہد کا جائزہ لینے اور وکلاء کی بحث کے بعد 12 جون 2026 کو فیصلہ سنایا۔ انہوں نے ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی ۔ فیصلہ کے فوری بعد جج تبسم خاں کے خلاف آن لائین نفرتی مہم شروع کی گئی جس میں انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعض ویڈیوز وائرل ہوئے جن میں تبسم خاں کو مسلمان ہونے کی بنیاد پر برا بھلا کہا گیا۔ ایک نفرتی شخص نے ریاست اور ملک میں قتل عام کی دھمکی دے ڈالی ۔ جج کے علامتی پتلے جلائے گئے۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ تبسم خاں نے اپنی ڈیوٹی انجام دی اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔ گودی میڈیا کے بعض رائیٹ ونگ کامنٹیٹرس نے عدالت کے اس فیصلہ کو مسلم جج کی شناخت کے طور پر پیش کرتے ہوئے صورتحال کو مزید بگاڑنے کا کام کیا ۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ کریمنل کورٹس مقدمات کے سلسلہ میں پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر قصوروار یا بے قصور ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جج کا کسی مخصوص مذہب یا طبقہ سے تعلق قانونی فرائض کی انجام دہی میں کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ فیصلہ کے خلاف گاؤ رکھشکوں کی تنظیموں اور ہندو توا گروپس نے احتجاج منظم کئے۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ مسلم جج کے خلاف مظاہروں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 22 جون کو گاؤ رکھشک پریشد نے پنجاب کے موہالی میں جج خان کے خلاف بھی مظاہرہ کرتے ہوئے سزا یافتہ افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اترپردیش میں انتر راشٹریہ ہندو پریشد اور راشٹریہ بجرنگ دل کے ارکان نے فیصلہ کے خلاف عدالت کے احاطہ میں احتجاج کیا اور حکام نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر ججس کے فیصلوں کا جائزہ لینا ہندوستان میں ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے ۔ عدلیہ کے فیصلہ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر ہوتے ہیں ۔ اس معاملہ میں یہ معنی نہیں رکھتا کہ جج کا تعلق کس مذہب سے ہے۔ تبسم خاں کو مخالف ہندو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ مدھیہ پردیش میں گاؤ رکھشکوں کے خلاف عدالت کے فیصلہ پر فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے احتجاج اس بات کا واضح پیام دیتا ہے کہ گاؤ رکھشک گروپس قانون پر یقین نہیں رکھتے اور وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے تبسم خاں کو تحفظ فراہم کرنے پولیس کو ہدایت دی لیکن یہ سوال برقرار ہے کہ ہم کس سماج میں موجود ہیں جہاں ایک جج اپنے فرائض کو آزادانہ طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ ہم آخر ایسے سماج میں موجود ہیں جہاں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ماب لنچنگ کے باوجود خاطیوں کو سزا قبول نہیں۔ خاص طور پر ایسے جج کی سزا جو مسلمان ہو۔ جسٹس کاٹجو نے کہا کہ تمام انصاف پسند ہندوستانیوں کو جج تبسم خاں کی تائید میں کھڑا ہونا چاہئے۔ انہوں نے تبسم خاں کی جرأت کو سراہا کہ انہوں نے بے خوف ہوکر اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔