مراکش اور فرانس میں دلچسپ کوارٹر فائنل متوقع
میساچوسٹس، 9 جولائی (آئی اے این ایس) فیفا ورلڈکپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں فرانس اور مراکش کی ٹیمیں گلٹ اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جہاں دونوں کی نظریں سیمی فائنل میں جگہ بنانے پر مرکوز ہوں گی۔ یہ مقابلہ 2022 کے ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرے گا، جب فرانس نے مراکش کی تاریخی مہم کا خاتمہ کرتے

میساچوسٹس، 9 جولائی (آئی اے این ایس) فیفا ورلڈکپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں فرانس اور مراکش کی ٹیمیں گلٹ اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جہاں دونوں کی نظریں سیمی فائنل میں جگہ بنانے پر مرکوز ہوں گی۔ یہ مقابلہ 2022 کے ورلڈکپ کی یادیں تازہ کرے گا، جب فرانس نے مراکش کی تاریخی مہم کا خاتمہ کرتے ہوئے اسے 0-2 سے شکست دی تھی اور فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔ تاہم چار برس بعد مراکش ایک زیادہ تجربہ کار، پراعتماد اور مضبوط ٹیم کے طور پر میدان میں اتر رہا ہے، جو اب محض ایک غیر متوقع حریف نہیں بلکہ کسی بھی بڑی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فرانس اس ٹورنمنٹ کی نمایاں ٹیموں میں شامل رہا ہے، اگرچہ پری کوارٹر فائنل میں پیراگوئے کے خلاف اسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سنسنی خیز مقابلے کا فیصلہ کپتان کائلیان ایمباپے کے پنالٹی گول نے کیا، جنہوں نے ایک مرتبہ پھر مشکل وقت میں اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔دیدیئر دیشام کی قیادت میں فرانس مسلسل تیسری مرتبہ ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا خواہاں ہے۔ اگر وہ اس مرحلے میں کامیاب ہوتا ہے تو مسلسل تین عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچنے والی دنیا کی صرف تیسری ٹیم بن جائے گی۔دوسری جانب مراکش نے قطر ورلڈکپ میں شروع ہونے والی اپنی شاندار پیش رفت کو برقرار رکھا ہے۔ ٹیم گیند پر عمدہ کنٹرول، بہترین تکنیکی مہارت اور منظم کھیل کی بدولت اب صرف دفاعی حکمت عملی پر انحصار کرنے کے بجائے مقابلے پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس میچ میں دونوں ٹیموں کی مختلف حکمت عملی بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہوگی۔ توقع ہے کہ مراکش زیادہ دیر تک گیند اپنے پاس رکھ کر کھیل پرکنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جبکہ فرانس اپنی برق رفتار جوابی حملہ آور حکمت عملی اور تیز رفتار فارورڈز کے ذریعہ حریف کے دفاع کو توڑنے کی کوشش کرے گا۔ حالیہ تاریخ اور مختلف اندازِکھیل کے باعث اس مقابلے کو کوارٹر فائنل مرحلے کا سب سے دلچسپ میچ قرار دیا جا رہا ہے۔دونوں ٹیموں کے اپنے اہم کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کے مسائل درپیش ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ یہ رکاوٹ نہیں ہوگی۔