اسلام آباد پیس فریم ورک سے متعلق عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ
تہران ؍ اسلام آباد ۔ 10 جولائی (ایجنسیز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ فون پر رابطہ کر کے امریکہ ایران کے درمیان تازہ حملوں سے پیدا شدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے کرائے گئے عبوری امن فریم ورک معاہدہ کی پابندی نہیں کر

تہران ؍ اسلام آباد ۔ 10 جولائی (ایجنسیز) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ فون پر رابطہ کر کے امریکہ ایران کے درمیان تازہ حملوں سے پیدا شدہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے کرائے گئے عبوری امن فریم ورک معاہدہ کی پابندی نہیں کر رہا ہے۔ عباس عراقچی کی اس فون کال پر مبنی بیان سرکاری میڈیا سے رپورٹ کیا گیا ہے۔ان کی پاکستان کے فیلڈ مارشل کے ساتھ کی گئی بات چیت امریکہ کی طرف سے کیے گئے تازہ حملوں کے بعد جمعرات کے روز ہوئی ہے۔ ایران نے بھی امریکہ کے ان حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادی ملکوں پر حملے کر کے جواب دیا ہے۔ ان حملوں کے تبادلے سے یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ پاکستان کے کرائے عبوری معاہدے کا مستقبل خطرے میں ہے۔پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز شریف کی کوششوں سے امریکہ و ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے حوالے سے عبوری معاہدہ پچھلے ماہ کے دوسرے نصف میں ممکن ہوا تھا۔ جنگ کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر 28 فروری کو کیا تھا۔ البتہ بعد ازاں 8 اپریل کو عبوری جنگ بندی پرفریقین میں اتفاق ہو گیا تھا۔ میڈیا کے مطابق وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امرکہ کے تازہ حملوں کی مذمت کی اور ان حملوں کو عبوری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف قرار دیا۔میڈیا کے مطابق عراقچی نے کہا امریکی حکام کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ کو اسلام آباد معاہدے کی پروا نہیں ہے، اس لیے امریکہ نے اس کی خلاف ورزی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ‘ارنا’ کے مطابق عباس عراقچی نے یہ بات پاکستان کے فوجی سربراہ سے فون پر کہی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر اپنے دفاع کیلئے ایرانی عزم کا اعادہ کیا اور کہا ہم اپنی خود مختاری، علاقائی سلامتی اور سالمیت واستحکام کا تحفظ کریں گے۔ نیز امریکی فوج کی جانب سے مزید کوئی مہم جوئی قبول نہ ہو گی۔ادھر پاکستان کی طرف سے سرکاری طور پر اس تازہ رابطے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان نے اس معاملے میں ہونٹ سختی سے بند رکھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ پاکستان اب بھی سمجھتا ہے کہ اسے ایک ثالث کے طور پر غیر جانبدار ہی رہنے کی کوشش کرنا ہے۔ جیسا کہ پاکستان نے پہلی بار امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کو براہ راست مزاکرات پر راضی کیا تھا۔