سومناتھ مندر میں لوٹ سے رام مندر میں چندہ چوری تک
رام پنیانیملک فی الوقت ایودھیا رام مندر کے چندہ میں مبینہ خرد برد یا چندہ چوری (عطیات کی چوری) پر حیرت اور صدمہ سے دوچار ہوگیا ہے ۔ مندر سے فنڈس کی چوری سارے ملک کیلئے ایک جھٹکہ ثابت ہوئی ، خاص طور پر ان عقیدت مندوں کیلئے جنہوں نے اپنے بھگوان رام کیلئے معمولی رقم (چھوٹی رقم) سے لے کر کثیر رقم بطور ع

رام پنیانیملک فی الوقت ایودھیا رام مندر کے چندہ میں مبینہ خرد برد یا چندہ چوری (عطیات کی چوری) پر حیرت اور صدمہ سے دوچار ہوگیا ہے ۔ مندر سے فنڈس کی چوری سارے ملک کیلئے ایک جھٹکہ ثابت ہوئی ، خاص طور پر ان عقیدت مندوں کیلئے جنہوں نے اپنے بھگوان رام کیلئے معمولی رقم (چھوٹی رقم) سے لے کر کثیر رقم بطور عطیہ یا نذرانہ پیش کی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ایودھیا میں 6 ڈسمبر 1992 کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد اسی مقام پر رام مندر کی تعمیر عمل میں لائی گئی اور یہ بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بابری مسجد کو رام جنم بھومی احتجاج کے ایک حصہ کے طور پر منہدم کیا گیا ۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ رام جنم بھومی احتجاج کے نتیجہ میں سارے ملک میں رام رتھ یاترائیں نکالی گئیں جن کی قیادت اس وقت کے بی جے پی صدر ایل کے اڈوانی نے کی اور حقیقت یہ ہے کہ اس احتجاج نے ملک کو دہلاکر رکھ دیا تھا ۔ اڈوانی کی رام رتھ یاترا دراصل بی جے پی ۔ آر ایس ایس کی اس مہم کا حصہ تھی جس کا مقصد ایودھیا میں رام مندر کی بحالی تھا اور اسی مہم کے ذریعہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا ۔ بی جے پی آر ایس ایس نے پر زور انداز میں ہی پروپگنڈہ کیا کہ پہلے مغل بادشاہ بابر نے ایودھیا میں رام مندر تباہ کی جہاں بھگوان رام پیدا ہوئے تھے ۔ بابر نے رام مندر اس لئے تباہ کی تاکہ اس مقام پر اپنے نام سے ایک مسجد تعمیر کی جاسکے ۔ بی جے پی۔آر ایس ایس نے رام جنم بھومی تحریک کو ایک طویل عرصہ تک جاری رکھا ۔ اس پر بحث و مباحث بھی ہوتے رہے جس کا واحد مقصد اپنی مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنا تھا اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ بی جے پی ۔ آر ایس ایس کس طرح اپنے پروپگنڈہ اور منصوبہ میں کامیاب ہوئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سنگھ پریوار عدلیہ کے ایک گوشہ کی مبینہ ملی بھگت اور اس کے تعاون و اشتراک سے کامیاب ہوا اور اہم بات یہ ہے کہ اس وقت سے ہی بڑا فنڈ جمع کرنے کی مہم بھی شروع کردی گئی ۔ ایک طرف رام جنم بھومی تحریک زور و شور سے جاری تھی تو دوسری طرف بڑے پیمانہ پر فنڈز اکٹھا کرنے کی متوازی مہم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ مسجد کی شہادت کے بعد لبرہان کمیشن نے اس خیال کا اظہار کیا تھاکہ ایل کے اڈوانی ، ایم ایم جوشی اور اوما بھارتی (بی جے پی کے تمام اعلیٰ قائدین) شہادت بابری مسجد کے مجرمین میں شامل ہیں ۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ بابری مسجد کا انہدام ایک جرم تھا ۔ بہرحال آج کے عدالتی نظام کو حکمراں جماعت کے زیر اثر سمجھا جاتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ زمین جس پر بابری مسجد کھڑی تھی ، رام مندر کی تعمیر کیلئے دے دی گئی ۔ اس کے ساتھ ہی ایک عظیم الشان مندر کی تعمیر کیلئے فنڈز جمع کرنے کا عمل شروع ہوگیا ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ڈبل رول یا دوہرا کردار اد کیا ، ایک صدر مملکت اور دوسرے صدر پجاری کا (حالانکہ مودی ملک کے وزیراعظم ہیں صدر جمہوریہ نہیں) مجموعی طور پر وہ مسٹر مودی ہی تھے جن کے بارے میں کہا گیا کہ رام مندر سے متعلق تمام امور وہی طئے کرنے والے تھے۔ یعنی حتمی فیصلہ کرنے والے وہی تھے (Decider in Chief) تھے۔ واضح رہے کہ تعمیر کے زمینی حصہ (گراؤنڈ فلور) کی تعمیر تکمیل کے بعد بارش کے موسم میں عمارت کے معیار تعمیر پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ، چھت سے پانی رسنے لگا جس کے بعد فرش کو خشک رکھنے بالٹیوں (بکٹس) کا استعمال کرنا پڑا۔ اس طرح بالٹی صنعت کو فروغ حاصل ہوا۔ مندر میں بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور دفتر وزیراعظم (پی ایم او) کے بارے میں کہا گیا کہ عطیات جمع کرنے کے تمام انتظامات پر اس کا ہی کنٹرول ہے۔ کس قدر عطیات جمع کئے گئے ، اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ وشوا سندھی سماج نے کہا کہ اس نے رام مندر کیلئے چاندی کی تقریباً 200 اینٹس بطورعطیہ پیش کی اور ہر اینٹ کا وزن ایک کلو گرام تھا اور اپنے اس گرانقدر عطیہ کی ان لوگوں نے کوئی رسید حاصل نہیں کی ۔ مختلف شکلوں میں گرانقدر عطیات دیئے گئے ۔ ٹرسٹیوں کی جانب سے مبینہ طور پر عطیات میں جو خرد برد کیا گیا ، اس کا تخمینہ 2 ہزار تا 3 ہزار کروڑ روپئے لگایا گیا ہے ۔ مختصراً یہ کہ اب یہ بات پوری طرح سامنے آچکی ہے کہ یہ مندر دولت کی لوٹ مار کا مرکز بن گیا ۔ اس کے اثرات آنے والے وقت میں مزید واضح ہوں گے ۔ اگر دیکھا جائے تو ساری رام مندر مہم بنیادی طور پر سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے چلائی گئی ۔ اس کے نتیجہ میں بی جے پی ایک حکمراں جماعت کے طور پر ابھرنے میں کامیاب رہی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دے کر اپنے سیاسی ووٹ بینک کو مزید مضبوط کیا گیا۔ فی الوقت ہم ایک ایسی جمہوریت میں رہ رہے ہیں جہاں بھائی چارگی کو ختم کردیا گیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔ اس صورتحال سے زمانے قدیم کے بادشاہوں کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں، جب بادشاہ دولت حاصل کرنے مندروں کو لوٹا کرتے تھے ۔ اگر ہم بادشاہوں کے دور میں مندروں کی تباہی اور موجودہ نیم جمہوری معاشرے جو انتخابی آمریت میں تبدیل ہورہا ہے ۔ دونوں کا موازنہ یا تقابل کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دولت کی ہوس دونوں میں مشترکہ عنصر ہے جبکہ مذہبی خطوط پر عوام کی تقسیم ان بادشاہوں کے مقاصد میں شامل نہیں تھا جو لوٹ مار کرتے تھے ۔ آج فرقہ پرست طاقتوں کا بنیادی ایجنڈہ ہی مذہبی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کرنا بن چکا ہے ۔ اس کی دو نمایاں مثالیں ذہن میں آتی ہیں۔ ایک گیارہویں صدی کے کشمیر کے راجہ ہرش دیو اور دوسری محمود غزنوی کی جانب سے سومناتھ کی لوٹ مار، اس کے علاوہ بھی دوسرے بادشاہوں نے مندروں اور مقدس مقامات کو نقصان پہنچایا۔مورخ ڈی ڈی کو سامبی لکھتے ہیں ،کشمیر کے راجہ ہرش (1089-1101) نے (انہیں ساتویں صدی کے راجہ ہرشانہ سمجھا جائے) اپنے پورے اقتدار میں تقریباً تمام دھاتی منظم طریقہ سے پگھلادیا ، صرف چار استثنیٰ کے ساتھ اس کام کیلئے اس نے ایک خصوصی وزیر مقرر کر رکھا تھا جسے دیوتاؤں کو اکھاڑ پھینکنے کا وزیر Devottapatna Nayak کہا جاتا تھا ۔ دوسری جانب ایک اور مصنف اصغر علی انجنیئر لکھتے ہیں کہ محمود غزنوی کے بارے میں بھی مورخین حقائق بیان کرتے ہوئے کافی حد تک چنندہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس نے سومناتھ مندر لوٹا اور مندر کو تباہ کیا لیکن اس حقیقت پر روشنی نہیں ڈالتے کہ اس نے اپنی فوج اور اپنی انتظامیہ میں ہندوؤں کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا۔ اس کے ہندو جرنیلوں تلک ، سوندھی ، رائے ہند اور ہر جن کے نام تاریخ میں موجود ہیں۔ ان جرنیلوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ۔ اس کے دور میں ایسے سکے بھی جاری کئے گئے جن پر سنسکرت میں تحریر کندہ ہوا کرتی تھی ۔ جہاں تک مندروں کی تباہی کا سوال ہے ، اس کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ اس کے پیچھے مدہبی مقاصد کارفرما تھے جبکہ موجودہ سماجی فہم و فراست کا سوال ہے مندروں کی تباہی کے پیچھے دراصل انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل آوری کارفرما رہی ۔ انگریزوں نے تاریخ کو فرقہ وارانہ بنیاد پر مسخ کیا اور اس مسخ شدہ تاریخ پر عمل آوری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ جب محمود غزنوی نے سومناتھ مدنر کو تباہ کیا ، اس سے پہلے اس نے مندر میں موجود سونے اور چاندی کی تمام مورتیوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا جس کی جملہ مالیت 20 ہزار سونے کے دینار بتائی جاتی ہے جو اس دور میں بہت بڑی رقم تھی ۔ کنہیا لال مانک لال منشی کی ناول جئے سومناتھ نے محمود غزنوی اور مسلمانوں کو بدنام کرنے اور انہیں منفی کردار میں پیش کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔ مسلم بادشاہوں کو مندروں کو تباہ کرنے والے قرار دیا جاتا ہے لیکن کئی ایسے مسلم بادشاہ گزرے ہیں جنہوں نے ہندو مندروں کو گرانقدر عطیات دیئے۔ ، خود اورنگ زیب نے مہا کالیشور مدنر (اجین) بالاجی ٹمپل (چترکوٹ) اومانند مندر (گوہاٹی) اور جین مندروںکے ساتھ ستاھ شمالی ہند میں پھیلے گردواروں کو بیش بہا عطیات دیئے۔