ایران پر داغنے کیلئے ایک ہزار میزائل تیار ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 11 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر بمباری کی دھمکی دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں لکھا، ’’ایک ہزار میزائل مکمل طور پر تیار ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب نشانہ

واشنگٹن ۔ 11 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر بمباری کی دھمکی دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں لکھا، ’’ایک ہزار میزائل مکمل طور پر تیار ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب نشانہ باندھے ہوئے ہیں، جبکہ مزید ہزاروں میزائل فوری طور پر اس کے بعد داغے جا سکتے ہیں۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق ایران نے ’’دنیا کے مختلف حصوں میں‘‘ انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ’’احکامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں اور امریکی فوج ایک سال تک اور ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع کے ساتھ، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے تیار، آمادہ اور اہل ہے۔‘‘ امریکی صدر کا یہ بیان وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایسی خفیہ معلومات فراہم کی ہیں، جو ٹرمپ کے خلاف ایک مبینہ ایرانی سازش کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ تاہم اس رپورٹ میں ان معلومات کے ماخذ اور وقت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ واضح رہے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران بعض شرکاء کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف نعرے لگائے گئے تھے اور کچھ افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ’’ٹرمپ کو قتل کرو‘‘ درج تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ سینیٹ پر برہم، بل پر دستخط سے انکارواشنگٹن۔ 11 جولائی (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سینیٹ پر برہم ہونے کی وجہ سے ہاؤسنگ بل پر دستخط سے انکار کر دیا۔ روئٹرز کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ دو جماعتی حمایت سے منظور ہونے والے رہائشی اخراجات میں کمی سے متعلق بل پر دستخط نہیں کریں گے ، اور اسے انھوں نے ’’بہت بورنگ‘‘قرار دیا۔تاہم، صدر کے دستخط کے بغیر بھی ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کا مشترکہ بل قانون بن سکتا ہے ، اس ہاؤسنگ بل کا مقصد گھروں کی بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کرنا ہے ۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ ’سیو امریکہ ایکٹ‘ منظور نہ کیے جانے پر امریکی سینیٹ کے خلاف احتجاجاً اس بل پر دستخط نہیں کر رہے ۔ اگرچہ امریکی کانگریس اس وقت شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے تاہم رہائشی اخراجات سے متعلق اس بل پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین کے درمیان ہونے والا اتفاق ایک نادر موقع ہے ۔ ہاؤسنگ بل کی اہم شقوں میں گھروں کی تعمیر کے منصوبوں کے لیے ماحولیاتی جائزوں کے عمل کو تیز کرنا یا بعض صورتوں میں اس سے استثنا دینا، اور وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے پہلے سے تعمیر شدہ سنگل فیملی گھروں کی ملکیت پر حد مقرر کرنا شامل ہے ۔ 29 جون کو ٹرمپ نے ووٹنگ سے متعلق قانون سازی کے مقابلے میں اس ہاؤسنگ بل کو بہت بورنگ قرار دیا تھا۔ اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ اس بل کو بغیر دستخط کے ہی قانون بننے دیں گے ، ایسی صورت میں یہ ہفتہ کو خودبخود نافذ العمل ہو جائے گا۔ امریکہ نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے قریب تعینات کر دیےواشنگٹن ۔ 11 جولائی (ایجنسیز) خطہ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب اپنے 2 طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش تعینات کر دیئے۔ بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق دونوں بحری جہاز گزشتہ روز خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکوریٹی کو مزید مضبوط کرنا اور ضرورت پڑنے پر تہران پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں، عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ امریکہ کی ایران پر مزید پابندیاںواشنگٹن۔ 11 جولائی (یو این آئی) امریکہ نے ایران پر مزید نئی اقتصادی پابندیاں عائد کردیں، جن میں کاروباری شخصیت، کرنسی ایکسچینج ہاؤسز اور متعدد کمپنیاں شامل ہیں جبکہ غیر ملکی زرِمبادلہ تک رسائی محدود کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ نے ایران پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے اس کے خلاف نئی اور وسیع پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے ۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کی ایک ممتاز کاروباری شخصیت، متعدد کرنسی ایکسچینج ہاؤسز اور ان سے منسلک کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے ۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کے مطابق پابندیوں کا ہدف دبئی میں مقیم ایرانی کاروباری شخصیت علی انصاری ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات کے لیے عالمی مالیاتی نیٹ ورک چلا رہے تھے ۔ امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ علی انصاری نے سرکاری دولت کو بیرونِ ملک جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کیا۔