ٹورنٹو میں فیسٹیول کے موقع پر فائرنگ، 2 افراد ہلاک
ٹورنٹو۔ 12 جولائی (ایجنسیز) کناڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو میں منعقد ہونے والے ایک مقبول فیسٹیول کے دوران فائرنگ کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ ہفتے کے روز ’سالسا آن سینٹ کلیئر‘ فیسٹیول کے مقام کے قریب فائرنگ ہوئی، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے پورے علاقے کو مح

ٹورنٹو۔ 12 جولائی (ایجنسیز) کناڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو میں منعقد ہونے والے ایک مقبول فیسٹیول کے دوران فائرنگ کے واقعے نے سنسنی پھیلا دی ہے۔ ہفتے کے روز ’سالسا آن سینٹ کلیئر‘ فیسٹیول کے مقام کے قریب فائرنگ ہوئی، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ چار دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس نے پورے علاقے کو محفوظ کر لیا ہے، تاہم واقعے میں ملوث ملزم کو اب تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔ ٹورنٹو پولیس کے مطابق ’سینٹ کلیئر ایونیو ویسٹ‘ اور ’آرلنگٹن ایونیو‘ کے قریب فائرنگ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔ جہاں 6 افراد گولی لگنے کی وجہ سے زخمی حالت میں ملے۔ سبھی زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں 2افراد کو مردہ قرار دے دیا گیا، جبکہ 4 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔واردات کے فوراً بعد پولیس نے لوگوں سے متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی تھی۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ جائے وقوعہ کو مکمل طور پر محفوظ بنا لیا گیا ہے۔ حالانکہ فائرنگ میں ملوث ملزم یا ملزمان کو اب تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ اونٹاریو کے ’پریمیئر ڈگ فورڈ‘ نے سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’سالسا آن سینٹ کلیئر‘ فیسٹیول میں پیش آنے والا بلاوجہ کا تشدد انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے 2افراد کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمیوں، متاثرہ کنبوں اور اس واقعے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ٹورنٹو کو کناڈا کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ شمالی امریکہ کے محفوظ ترین بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے میں پبلک پلیس پر متعدد افراد کو نشانہ بنایا جانا غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس فائرنگ کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔آبنائے ہرمز بند کرنے پاسدارانِ انقلاب کا اعلانتہران، 12 جولائی (یو این آئی) ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہیکہ آبنائے ہرمز کو “تا اطلاعِ ثانی” بند کر دیا گیا ہے ۔ یہ اعلان ایک ایسے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں مبینہ طور پر ایک جہاز کو “غیر مجاز راستے ” سے گزرنے پر وارننگ فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دوسری جانب امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جہازوں پر حملے روکنے اور بحری راستے کھلے رکھنے کا باضابطہ اعلان کرے ۔پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس نے اپنے نظام بند کر کے سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالا، جس کے نتیجے میں اسے روک لیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جہاز پر وارننگ گولیاں چلائی گئیں اور وہ رک گیا، تاہم جہاز کی نوعیت یا شناخت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔بیان کے مطابق کئی جہازوں نے “غیر مجاز راستے ” سے آبنائے عبور کرنے کی کوشش کی اور راستہ درست کرنے کی وارننگز کو نظر انداز کیا۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ اس واقعے کے بعد، چونکہ یہ عدم تحفظ غیر ملکی عناصر کی غیر قانونی مداخلت کے باعث پیدا ہوا ہے ، اس لیے آبنائے ہرمز کو تا اطلاعِ ثانی اور خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رکھا جائے گا اور کسی بھی جہاز کو اس سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بیان میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی گئی اور کہا گیا کہ اگر دشمن اس واقعے کو بہانہ بنا کر کوئی کارروائی کرتا ہے تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔دوسری جانب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اتوار کو بتایا کہ ایک کنٹینر بردار جہاز کے عملے نے اسے چھوڑ دیا، جب فوجی حکام نے اطلاع دی کہ عمان کے قریب جہاز کو نقصان پہنچا ہے اور اس میں آگ لگ گئی ہے ۔اتھارٹی نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسے عمان کے مشرق میں تقریباً 9 سمندری میل (16.7 کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔تازہ بیان میں کہا گیا کہ فوجی حکام اور جہاز پر موجود ایک اہلکار سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق عملہ جہاز چھوڑ کر اس وقت لائف بوٹ میں موجود ہے ، جبکہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ادھر امریکی اعلیٰ حکام نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکہ ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایک عوامی بیان جاری کرے ، جس میں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے روکنے اور خلیج کے تمام بحری راستے بغیر کسی فیس کے جہاز رانی کیلئے کھولنے کی تصدیق کی جائے ۔حکام نے محدود تعداد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہماری ایران سے یہ واضح توقع ہے کہ وہ ایک سرکاری بیان جاری کرے جس میں یہ اعلان کیا جائے کہ آبنائے ہرمز کے تمام بحری راستے کھلے ہیں اور اس نے جہازوں پر فائرنگ بند کر دی ہے ۔ اگر ایران ایسا بیان جاری نہیں کرتا تو ہمارے پاس اسے مطمئن کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوگا۔”ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق اس ہفتے جہازوں پر ایرانی حملوں کی بحالی اس وقت ہوئی جب ان کے بقول ایرانی سخت گیر عناصر کے ایک “باغی دھڑے ” نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔اس ہفتے تین جہازوں پر حملے کیے گئے ، جس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی اہداف پر حملوں کا حکم دیا۔ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جون میں دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے ۔امریکی عہدیدار نے مزید کہا، “ہم امید کرتے ہیں کہ ایران واضح طور پر یہ اعلان کرے گا کہ اس نے جہازوں پر فائرنگ روک دی ہے اور وہ کھلے یا ضمنی طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے گا۔ ہم اس مقصد کے حصول کیلئے اس وقت کام کر رہے ہیں۔”