ووٹر لسٹ سروے میں کئی خامیاں۔ 2002 کی فہرست میاپنگ دردسر
میاپنگ کے بغیر فارمس جمع کرانے پر الیکشن کمیشن کے تجویز کردہ 12 دستاویزات میں ایک پیش کرنا لازمیفارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 24جولائی ، بی ایل اوز کی لاپرواہی اور عدم تعاون سے ووٹرس میں تشویشحیدرآباد : 13 جولائی ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ان دنوں ووٹر لسٹوں کی جامع نظر ثانی کا عمل جاری ہے لیکن

میاپنگ کے بغیر فارمس جمع کرانے پر الیکشن کمیشن کے تجویز کردہ 12 دستاویزات میں ایک پیش کرنا لازمیفارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 24جولائی ، بی ایل اوز کی لاپرواہی اور عدم تعاون سے ووٹرس میں تشویشحیدرآباد : 13 جولائی ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ان دنوں ووٹر لسٹوں کی جامع نظر ثانی کا عمل جاری ہے لیکن زمینی سطح پر یہ عمل رائے دہندوں کیلئے پریشانی اور الجھن کا باعث بن رہا ہے ۔ ووٹرس کی جانب سے بڑے پیمانے پر شکایات سامنے آرہی ہیں کہ 2002 کی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر میاپنگ نے نئے مسائل کھڑے کردیئے ہیں جس کی وجہ سے کئی شہریوں کے حق رائے دہی سے محروم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ SIR کے بنیادی اصول کے تحت ووٹرس کو 2002 کی ووٹر لسٹ کے مطابق اپنے پولنگ بوتھ اور حلقہ اسمبلی کی میاپنگ کرنی ہے لیکن شہریوں خاص طور پر کرایہ کے مکانات میں مقیم ، ملازمت پیشہ اور کاروباری افراد کیلئے یہ معلوم کرنا ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے کہ 24سال پہلے ان کا یا ان کے والدین کا ووٹ کس حلقہ ، وارڈ یا پولنگ اسٹیشن میں تھا ۔ شہری علاقوں میں لوگ انیومیریشن فارم حاصل کرنے اور پُر کرنے شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ ایک طرف ووٹرس شکایت کر رہے ہیں کہ بی ایل او کی لاپرواہی سے انہیں اب تک انیومیریشن فارم نہیں ملے ہیں جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن عہدیدار دعویٰ کررہے ہیں کہ 99فیصد فارمس تقسیم کردیئے گئے ۔ اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی اور میڑچل میں لوگ فارمس کیلئے بی ایل اوز کے نام ، فون نمبر اور پتہ تلاش کرنے مجبور ہیں اور شفاف طریقہ سے فارم تقسیم نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ۔ اس دوران یہ معلومات بھی سامنے آئی کہ بعض مقامات پر بی ایل اوز ووٹرس کو دھمکا رہے ہیں کہ اگر انہوں نے فارمس کی خانہ پوری نہیں کی تو انہیں ہندوستانی شہری تسلیم نہیں کیا جائے گا جس پر ووٹرس میں تشویش پیدا ہوگئی ہے ۔ تینوں اضلاع حیدرآباد ، رنگا ریڈی و میڑچل میں ووٹرس کی نقل مکانی کے بڑے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ۔ صرف ضلع میڑچل میں اب تک 15,000 ووٹرس دوسری جگہ شفٹ ہوچکے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق 10,000 ووٹرس کی موت ہوچکی ہے ۔ ووٹرس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے الیکشن حکام نے واضح کیاکہ 2002 کی میاپنگ کے بغیر بھی انیومیریشن فارمس جمع کئے جاسکتے ہیں ۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ وہ بعد میں میاپنگ مکمل کر کے ایک اور ووٹر لسٹ شائع کریں گے ۔ تاہم شہریوں کو اپنی شہریت ثابت کرنے الیکشن کمیشن سے تجویز کردہ 12دستاویزات میں سے کوئی بھی ایک جمع کروانا لازمی ہوگا ۔ ان کی جانچ کے بعد حق رائے دہی بحال کیا جائیگا اور درست دستاویزات نہ ہونے پر ووٹ منسوخ کردیا جائیگا ۔ حکام نے ووٹرس کو مشورہ دیا کہ کسی بھی پیچیدگی سے بچنے میاپنگ کروالینا ہی سب سے بہتر ہے ۔ 2