روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوگا
ایتھنز ؍ بیروت ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) ایک لبنانی سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے فرانس پریس کو بتایا ہے کہ منگل اور چہارشنبہ کے روز روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوگا۔ذرائع جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ مذاکراتی نشستیں مقامی وقت کے م

ایتھنز ؍ بیروت ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) ایک لبنانی سرکاری ذرائع نے خبر رساں ادارے فرانس پریس کو بتایا ہے کہ منگل اور چہارشنبہ کے روز روم میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوگا۔ذرائع جس نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ مذاکراتی نشستیں مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے (گرینچ وقت کے مطابق صبح 8 بجے) شروع ہوں گی۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے، جب گزشتہ ہفتے اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ سفارتی سطح پر ہونے والے یہ مذاکرات، اگر کوئی غیر متوقع صورتحال پیش نہ آئی، تو 15 اور 16 جولائی کو منعقد کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چھٹا دور ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ سرکاری طور پر 1948 سے حالتِ جنگ میں ہیں۔تاہم دونوں ممالک نے اپریل کے وسط میں واشنگٹن میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا، جو کئی دہائیوں بعد اپنی نوعیت کی پہلی بات چیت تھی۔لبنان اور اسرائیل نے امریکہ کی سرپرستی میں ایک فریم ورک معاہدہ طے کیا ہے، جو جنگ کے خاتمے کیلئے جنگ بندی تک پہنچنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ معاہدے میں خاص طور پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی فوج کے جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کی بات شامل ہے، جہاں وہ داخل ہوئی تھی، جبکہ لبنانی فوج کو ابتدا میں دو ”تجرباتی علاقوں” سے تعینات کیا جائے گا۔ تاہم حزب اللہ اس معاہدے کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔دریں اثنا لبنانی صدارت نے پیر کے روز صدر جوزف عون اور وزیراعظم نواف سلام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ لبنانی وفد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مزید بحث سے قبل ان دونوں تجرباتی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے فوری انخلا کا مطالبہ کرے۔واضح رہے کہ ایک امریکی فوجی وفد نے ہفتے کے روز بیروت میں لبنانی فوج کے ساتھ ان دونوں علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے طریق? کار پر بات چیت شروع کی تھی۔