ایران کی امریکی فوجیوں کے فونز کا سراغ لگانے کی کوشش
تہران ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں ڈیجیٹل ٹریکنگ کے طریقوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے موبائل فونز کو نشانہ بنانے والی ایک مہم کا پتہ چلا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری

تہران ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں ڈیجیٹل ٹریکنگ کے طریقوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے موبائل فونز کو نشانہ بنانے والی ایک مہم کا پتہ چلا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے ماحول میں سامنے آئی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ایران ایک منظم مہم کے ذریعے امریکی فوجی دستوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس مقصد کیلئے کمرشل ایپلی کیشنز اور ڈیجیٹل اشتہاری نیٹ ورکس سے حاصل ہونے والے جغرافیائی مقام (لوکیشن) کے ڈیٹا کو استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے فوجیوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کی نگرانی ممکن ہو سکتی ہے، بغیر اس کے کہ فوجی نظام کو براہِ راست ہیک کیا جائے۔رپورٹ کے مطابق اس قسم کی نگرانی عام طور پر موبائل ایپس اور ڈیجیٹل سروسز کی جانب سے جمع کیے جانے والے لوکیشن ڈیٹا سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے افراد کی نقل و حرکت، اجتماع کے مقامات اور روزمرہ معمولات کی ایک واضح تصویر تیار کی جا سکتی ہے، جس سے تجارتی ڈیٹا کے انٹیلی جنس اور فوجی مقاصد کیلئے استعمال پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) پہلے ہی ان خطرات سے خبردار کر چکی ہے۔ کمانڈ نے نشاندہی کی تھی کہ مخالف ممالک کمرشل لوکیشن ڈیٹا کو امریکی فوجیوں کی نگرانی یا انہیں نشانہ بنانے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔سینٹرل کمانڈ کے دائر? کار میں خلیج عرب اور آبنائے ہرمز کا خطہ بھی شامل ہے، جہاں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوجی موجود ہیں۔اب تک ایرانی حکام نے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بھی اس مہم کی نوعیت یا امریکی فوجی کارروائیوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔