ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کیلئے اب بھی پُرامید
دوسری طرف ایک اور بڑے حملے کی تیاری اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا دعویٰ واشنگٹن ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہاں، میرے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، مجھے اس پر مکمل یقین ہے۔انہوں نے مزید کہا: ہم نے دو روز قبل ان کے ساتھ ایک معاہدہ ط

دوسری طرف ایک اور بڑے حملے کی تیاری اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنے کا دعویٰ واشنگٹن ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ہاں، میرے خیال میں معاہدہ ممکن ہے، مجھے اس پر مکمل یقین ہے۔انہوں نے مزید کہا: ہم نے دو روز قبل ان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر لیا تھا، لیکن پھر انہوں نے کہا کہ ہم یہ معاہدہ نہیں کر سکتے، اس لیے اس پر مزید مذاکرات جاری رکھنا ہوں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ واشنگٹن آج رات ایران کے خلاف ایک اور بڑے حملے کی کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ کے بقول: ہم ایران کی جارحانہ فوجی صلاحیتوں کو ختم کر رہے ہیں۔دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مسلسل تیسری رات بھی ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حملے ایرانی افواج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے اور بے گناہ شہریوں اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ان کی صلاحیت کو کمزور کر دیں گے۔بیان کے مطابق یہ فضائی کارروائیاں مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجکر 45 منٹ (8:45 گرینچ وقت) پر شروع کی گئیں۔اس سے کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ پیر اور منگل کی شب ایران پر شدید حملے کرے گا۔ٹرمپ نے پیر کے روز ”ہیو ہیوٹ شو” کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا: ہم آج رات انہیں پوری شدت سے نشانہ بنائیں گے اور کل بھی بھرپور حملے کریں گے اور وہ اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں گے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ فوجی کارروائیاں دو سے تین ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن مذاکرات کے ذریعے ہو یا فوجی حل کے ذریعے، ہر صورت کامیاب ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ایک امتحان تھی، مگر انہوں نے اس کا احترام نہیں کیا۔تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ جنگ بندی واقعی ختم ہو چکی ہے یا نہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے دعویٰ کیا: اگر ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہوتے تو وہ ایک ہی دن میں انہیں استعمال کر دیتا۔ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکہ ایران کے” بی کاکس ماؤنٹین” نامی نیوکلیئر مقام کو نشانہ بنائے گا۔انہوں نے کہا: ہم بی کاکس ماؤنٹین کو تباہ کر دیں گے۔ ایرانیوں سے کہہ دیں کہ وہ تیار رہیں۔انہوں نے مزید کہا: ہم بی کاکس ماؤنٹین پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں وہاں کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ ان کا نیوکلیئر پروگرام اچھی حالت میں نہیں ہے۔ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر 20 فیصد فیس کے اعلان پر ایران کا جوابتہران، 14 جولائی (یو این آئی) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اعلان پر ردِعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے ۔عراقچی نیکہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے والے فریق کو معاوضہ ملنا چاہیے تاہم ایران ہمیشہ اس اہم آبی گزرگاہ کا محافظ رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے 20 فیصد فیس کے اعلان کو زیادہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران منصفانہ نِرخ لے گا۔دوسری جانب ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اب آبنائے ہرمز کا محافظ ہو گا۔ 90فیصد امکان ہے کہمجتبیٰ خامنہ ای زندہ نہیں:ٹرمپواشنگٹن، 14 جولائی (یو این آئی)امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ 90 فیصد امکان ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید تنزلی کا سامنا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ، اینٹی ایئر کرافٹس سب ختم ہو گئے ۔ جب بھی ہمیں اس کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، ہم اسے نشانہ بناتے ہیں۔ اسی لیے وہ اس کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ تاہم غالب امکان ہے کہ ہم مستقبل قریب میں” بی کاکس ماؤنٹین” پر ایک اور حملہ کریں گے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ”بی کاکس ماؤنٹین” ایران کے شہر نطنز کے قریب واقع ہے، جہاں یورینیم افزودگی کی اہم تنصیب موجود ہے، جو حالیہ حملوں میں شدید متاثر ہوئی تھی۔ یہ انتہائی مضبوط حفاظتی انتظامات والا مقام ہے، جہاں زمین کی گہرائی میں دو بڑے سرنگی کمپلیکس قائم ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس نہ مؤثر فضائی قوت ہے، نہ بحری قوت اور نہ ہی تقریباً کوئی قابلِ ذکر عسکری صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔انہوں نے کہا: ہم نے ان کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت کو ختم کر دیا ہے اور ایرانی نظام کا 25 فیصد ختم کر دیا ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں ،جب ٹرمپ نے اس سے قبل پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکہ ایران پر دوبارہ بحری محاصرہ نافذ کرے گا، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے گا، تاہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی۔یہ پیش رفت گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان میزائلوں اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ لنزے گراہم کی موت میں کوئی مجرمانہ سازش نہیں : ٹرمپ واشنگٹن ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم کی موت کے پیچھے کسی بھی مجرمانہ سازش کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب سوشل میڈیا پر بعض سازشی نظریات گردش کر رہے ہیں، جن میں ان کی موت کو روس سے جوڑا جا رہا ہے۔ٹی وی چینل ”نیوز میکس ”کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا گراہم کی موت سے متعلق تمام حالات و واقعات واضح ہو چکے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا: میرا خیال ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہوا تھا۔ٹرمپ نے بتایا کہ واشنگٹن کے چیف میڈیکل ایگزامنر نے موت کی وجہ شہ رگ کے پھٹنے کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گراہم کے والد کا انتقال بھی 69 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا۔ٹرمپ نے کہا: سازشی نظریات کا جواب دینے کیلئے، میری خواہش تھی کہ صورتحال مختلف ہوتی، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ کچھ ایسے گہرے اور پیچیدہ صحت کے مسائل کا شکار تھے جن کا پتہ لگانا آسان نہیں تھا۔ ان کے والد بھی تقریباً اسی عمر میں وفات پا گئے تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ میں جسے ’’ریس ہارس تھیوری‘‘ کہتا ہوں، اس پر یقین رکھتا ہوں، اگر آپ کو صحت کے مسائل ہیں تو وہ حقیقت میں موجود ہوتے ہیں اور گراہم کو کچھ اندرونی صحت کے مسائل درپیش تھے جنہیں آسانی سے دریافت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لنڈسی گراہم روس اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے نمایاں ناقدین میں شامل تھے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے کیف میں ملاقات بھی کی تھی، جس کے بعد بعض افراد نے ان کی موت کے حالات سے متعلق قیاس آرائیاں شروع کر دی تھیں۔ تاہم امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان کی موت قدرتی وجوہات کے باعث ہوئی۔دریں اثنا ریپبلکن سینیٹر ٹومی ٹوبرول نے انکشاف کیا ہے کہ گراہم کے دفتر کی ایک سابق ملازمہ، جو اب ان کی ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہے، نے اس رات ہنگامی نمبر (911) پر کال کی تھی جس رات سینیٹر کا انتقال ہوا۔ٹوبرول کے مطابق گراہم نے اپنے شیڈول کی ذمہ دار خاتون سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ سینے میں درد محسوس کر رہے ہیں۔اس پر خاتون نے پوچھا کہ کیا انہوں نے ہنگامی سروسز سے رابطہ کیا ہے؟ گراہم نے جواب دیا: نہیں، اسی لیے تو میں نے آپ کو فون کیا ہے۔