بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی کولکاتا واپسی
٭ 20 سال بعد ٭ کولکاتا۔ 15 جولائی (ایجنسیز) بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین تقریباً دو دہائیوں بعد مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا واپس آ رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ یکم اگست کو رویندر سدن ثقافتی مرکز میں منعقد ہونے والے ایک ادبی پروگرام میں شرکت کرے گی، جہاں وہ اپنی نظمیں پیش کرے گی

٭ 20 سال بعد ٭ کولکاتا۔ 15 جولائی (ایجنسیز) بنگلہ دیش کی متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین تقریباً دو دہائیوں بعد مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا واپس آ رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ یکم اگست کو رویندر سدن ثقافتی مرکز میں منعقد ہونے والے ایک ادبی پروگرام میں شرکت کرے گی، جہاں وہ اپنی نظمیں پیش کرے گی اور جلاوطنی کے دوران پیش آنے والے تجربات پر بھی اظہار خیال کرے گی۔رپورٹس کے مطابق تسلیمہ نسرین کو 2007 میں ان کی کتاب “دوی کھنڈیتو’’ پر ہونے والے شدید احتجاج اور سکیورٹی خدشات کے باعث کولکاتا چھوڑنا پڑا تھا۔ اس کے بعد یہ اس کا شہر میں پہلا عوامی پروگرام ہوگا۔تقریب کا انعقاد سیکولر مشن، پشچم بونگیر جونّو اور ہیومن رائٹس بیونڈ فرنٹیئرز کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا جا رہا ہے۔منتظمین کے مطابق مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری اور معروف ادیب شیرشندو مکھوپادھیائے کی بھی تقریب میں شرکت متوقع ہے۔ادھر بی جے پی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اگنی مترا پال نے تسلیمہ نسرین کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومتیں انہیں مناسب سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بائیں بازو کی حکومت اور بعد ازاں ممتا بنرجی کی حکومت بھی ایک باصلاحیت مصنفہ کو تحفظ دینے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تسلیمہ نسرین کی تحریروں کی مداح ہیں اور ان کی واپسی خوش آئند ہے۔تقریب کے منتظم عثمان ملک نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں بھی تسلیمہ نسرین کو کولکاتا لانے کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم کامیابی نہیں مل سکی۔ اس بار مناسب سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے دعوت قبول کر لی۔ ان کے مطابق مصنفہ تقریب میں اپنی جلاوطنی، کولکاتا چھوڑنے کے حالات اور آزادیٔ اظہار سے متعلق اپنے خیالات بھی پیش کریں گی۔