گریٹر حیدرآباد کے تینوں ا ضلاع میں 35 لاکھ ووٹ منسوخ ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد کے 4 اسمبلی حلقوں میں SIR کا عمل سست روی کا شکار ، DEO کی متعلقہ عملہ پر برہمی مسودہ فہرست رائے دہندگان کی اجرائی کے بعد مشکوک ووٹرس کو نوٹس جاری ہوگی، سدرشن ریڈی کی عمل پر گہری نظر حیدرآباد ۔ 14 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR-2026) کے عمل کے دو

حیدرآباد کے 4 اسمبلی حلقوں میں SIR کا عمل سست روی کا شکار ، DEO کی متعلقہ عملہ پر برہمی مسودہ فہرست رائے دہندگان کی اجرائی کے بعد مشکوک ووٹرس کو نوٹس جاری ہوگی، سدرشن ریڈی کی عمل پر گہری نظر حیدرآباد ۔ 14 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظر ثانی (SIR-2026) کے عمل کے دوران ایک چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے ۔ گریٹر حیدرآباد کے تینوں اضلاع حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور میڑچل ۔ ملکاجگری میں صورتحال سب سے زیادہ نازک ہیں۔ انتخابی عہدیداروں کا اندازہ ہے کہ ان تینوں اضلاع میں ہر ضلع سے 8 تا 12 لاکھ ووٹ خارج کئے جاسکتے ہیں جس سے صرف گریٹر حیدرآباد میں منسوخ ہونے والے ووٹوں کی مجموعی تعداد 35 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔ اس بڑے پیمانہ پر ووٹوں کی منسوخی کی وجوہات ہیں۔ اس سارے عمل میں ریاست بھر میں تقریباً 89 لاکھ ووٹ مشکوک ووٹرس کی فہرست میں شامل ہیں ، جس کا سب سے بڑا جھٹکا ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد اور اس کے قریبی اضلاع کو لگے گا۔ پہلے تو بوتھ لیول آفیسرس کی جانب سے اینومریشن فارمس کی تقسیم میں تاخیر ہوئی ہے ۔ دوسری جانب ووٹرس کی جانب سے فارم کی خانہ پوری میں بھی عدم دلچسپی دیکھی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک سے زائد مقامات پر ووٹس پائے گئے ہیں۔ اگرچہ کہ بی ایل اوز اور الیکشن رجسٹریشن آفیسرس نے ریاستی الیکشن کمیشن کو صد فیصد اینومریشن فارمس تقسیم کرنے کی رپورٹ پیش کی ہے لیکن زمینی سطح پر کئی علاقوں میں اب بھی ووٹرس کو فارمس وصول نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ان کے ووٹس منسوخ ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ پیر تک ڈیجیٹلائیزیشن کئے گئے 15 فیصد فارمس میں اوسطاً 20 فیصد فارمس میں شکوک و شبہات پائے گئے ہیں۔ اگر یہی رجحان پایا گیا تو مجموعی منسوخی کا تناسب35 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حیدرآباد کے چار اسمبلی حلقوں میں کام کی رفتار انتہائی سست ہے ۔ اسمبلی، حلقہ کنٹونمنٹ میں 40 فیصد اینومریشن فارمس ووٹرس تک پہنچ ہی نہیں پائے جبکہ اسمبلی حلقہ جات مشیر آباد، صنعت نگر اور عنبرپیٹ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ اس سنگین غفلت پر ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر (DEO) آر وی کرنن نے مشیر آباد کے ERO اور AERO کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہے اور جلد ہی دیگر تین اسمبلی حلقوں کے حکام کے خلاف بھی سخت کارروائی کی توقع ہے ۔ جی اے ایم سی الیکشن ڈپارٹمنٹ کی ایڈیشنل کمشنر چندرا کلا نے واضح کیا ہے کہ اس تمام عمل کے بعد 31 جولائی 2026 کو مسودہ ووٹر لسٹ باضابطہ طور پر جاری کی جائے گی ۔ اس کے فوری بعد ہی یکم اگست سے ان تمام ووٹرس کو انفرادی طور پر نوٹسیں روانہ کی جائیں گی جن کے نام ، ولدیت ، عمر یا دیگر تفصیلات میں کوئی عدم مماثلت (Anomalies) ہے یا غیر واضح زمرہ میں رجسٹرڈ ہیں۔ ایڈیشنل کمشنر نے واضح کیا کہ نوٹس ملنے کے بعد ہر ووٹر کو انتخابی عہدیدار سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اپنا جواب جمع کرانا لازمی ہوگا۔ انہوں نے اطمینان دلایا کہ اس عمل کیلئے سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے تجویز کردہ کوئی بھی مستند شناختی کارڈ انتخابی آفیسر کے پاس جمع کرانا ہی کافی ہوگا تاکہ ان کے حق رائے دہی کو بحال رکھا جاسکے۔ چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی نے ضلع کلکٹر رنگا ریڈی کے ہمراہ شیر لنگم پلی میں ووٹر لسٹوں کی جامع نظرثانی عمل کا معائنہ کیا۔2/k