ہوم ورک تنازعہ : پرانے شہر کے اسکول انتظامیہ میں تشویش
محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولی نصاب اور اسمبلی میں پڑھائی جانے والی دعاؤں کا جائزہحیدرآباد۔18جولائی(سیاست نیوز) سعید آباد میں واقع خانگی اسکول میں دیئے گئے ہوم ورک تنازعہ نے خانگی اسکولوں اور پرانے شہر میں موجود سرکاری اسکولوں کے ذمہ داروں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے اور اسکول انتظامیہ جو مسلم و

محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولی نصاب اور اسمبلی میں پڑھائی جانے والی دعاؤں کا جائزہحیدرآباد۔18جولائی(سیاست نیوز) سعید آباد میں واقع خانگی اسکول میں دیئے گئے ہوم ورک تنازعہ نے خانگی اسکولوں اور پرانے شہر میں موجود سرکاری اسکولوں کے ذمہ داروں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے اور اسکول انتظامیہ جو مسلم و غیر مسلم طلبہ کے ساتھ اسکول چلا رہے ہیں وہ انتہاء سے زیادہ محتاط رہنے لگے ہیں۔ سعید آباد واقعہ کا بھارتیہ جنتا پارٹی اور فرقہ پرست طاقتیں جس انداز میں استحصال کر رہی ہیں اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں بی جے پی اپنی طاقت میں اضافہ کے لئے اس طرح کے واقعات کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے عوام میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خانگی اسکول میں جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس کے بعد سے ریاستی محکمہ تعلیم بالخصوص ضلعی عہدیداروں نے متحرک ہوتے ہوئے اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم اور نصاب کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے سرکاری اسکولوں پر خصوصی نظر رکھنے اور ان اسکولو ںمیں ’’اسمبلی ‘‘ کے دوران پڑھائی جانی والی دعاؤوں کے علاوہ نصاب میں دی جانے والی تعلیم کے متعلق تفصیلات حاصل کرنی شروع کردی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں ’’وندے ماترم‘‘ کے لزوم کے سلسلہ میں اقدامات کا بھی اب جائزہ لینے کے لئے عہدیداروں پر دباؤ ڈالا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں مسلم انتظامیہ کی جانب سے چلائے جانے والے خانگی اسکولوں میں جہاں طلبہ کی اکثریت مسلم طبقہ سے تعلق رکھتی ہے ان اسکولوں کے نصاب میں ’’دینیات ‘‘ شام ہوتا ہے اور ابتدائی تعلیم سے 5ویں جماعت تک بیشتر تمام اسکولوں میں ’دینیات ‘ یا کئی اسکولوں میں ’’اخلاقیات‘‘ سے متعلق کتب نصاب میں شامل کرتے ہوئے طلبہ کی تربیت کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں لیکن اب ان مضامین کو شمل نصاب رکھنے والے اسکول انتظامیہ اپنے مستقبل کے متعلق فکر مند ہونے لگے ہیں ۔اقلیتی غالب آبادیوں والے علاقوں میں موجود سرکاری اسکولوں میں جہاں اساتذہ اور اسکولوں کے ذمہ داروں کی جانب سے ’اخلاقیات‘ کے مضمون کے ذریعہ طلبہ کی تربیت کے خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں اب وہ سرکاری اسکولوں میں جاری رکھنے کے متعلق از سر نو غور کرنے لگے ہیں ۔ سعید آباد میں پیش آئے واقعہ کے بعد تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ جاری رنجش اور اختلاف کو بھی فرقہ وارانہ نوعیت کا رنگ دیتے ہوئے اسکول انتظامیہ کو نشانہ بنانے کی جو راہیں ہموار ہونے لگی ہیں اس پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے حکمت عملی تیار کرنے کے اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیں۔بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ میں آرمور کے اسکول میں ’’اردو‘‘ پڑھانے کے واقعہ کے اندرون 2ہفتہ حیدرآباد کے اسکول میں پیش آئے تنازعہ کے درمیان شہر حیدرآباد کے ہی ایک غیر اقلیتی اسکول میں پیش آئے ایک اور واقعہ جس میں ’’خامنہ ای‘‘ کی تدفین کے تذکرہ کو بنیاد بناتے ہوئے نشانہ بنانے کی کوشش کی ناکامی کے بعد اب سعید آباد کے واقعہ نے شہر میں اسکول چلانے والے انتظامیہ میں تشویش پیدا کردی ہے۔H/3