عراقی بندرگاہ پر جہازوں پر تیل لادنے میں عارضی تعطل
بغداد ۔ 17 جولائی (ایجنسیز) جمعرات کے روز عراق کی بصرہ بندرگاہ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کچھ دیر کیلئے تیل برادری کے امور میں تعطل آگیا تاہم جلد ہی اس تعطل کو دور کر لیا گیا ہے۔بندرگاہ سے متعلق ذرائع کے مطابق ایک ڈرون کے ذریعے بندرگاہ کے ٹرمینل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اس سے کوئی نقصان ن

بغداد ۔ 17 جولائی (ایجنسیز) جمعرات کے روز عراق کی بصرہ بندرگاہ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کچھ دیر کیلئے تیل برادری کے امور میں تعطل آگیا تاہم جلد ہی اس تعطل کو دور کر لیا گیا ہے۔بندرگاہ سے متعلق ذرائع کے مطابق ایک ڈرون کے ذریعے بندرگاہ کے ٹرمینل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اس سے کوئی نقصان نہ ہو سکا۔ البتہ سیکیورٹی حکام نے مختصر دورانیے کیلئے بندر گاہ میں کھڑے جہازوں پر تیل لادنے کی سرگرمی روک دی۔ کچھ ہی دیر میں صورت حال کو کنٹرول میں قرار دیتے ہوئے اس عارضی تعطل کو دور کر دیا گیا۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ڈرون حملہ کس نے کیا تھا۔دوسری جانب عراقی تیل کے امور کی وزارت نے ان خبروں کو درست تسلیم نہیں کیا ہیکہ ڈرون حملے کے نتیجے میں کچھ دیر کیلئے بندرگاہ پر کام رک گیا تھا۔ بندر گاہ پر کام معمول کے مطابق جاری ہے۔وزارت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات جاری ہیں کہ ایک غیر ملکی ڈرون کیونکر اس علاقہ میں پہنچا۔ تاہم اس واقعہ سے کہیں آگ لگی اور نہ ہی کسی جہاز کو نقصان پہنچا۔عراقی تیل کی فروخت سے متعلق کمپنی ایس او ایم او نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے یہ واقعہ براہ راست بصرہ کی بندر گاہ کو نشانہ بنانے والا نہیں تھا۔ ایس او ایم او کے ذمہ دار علی نذر نے کہا یہ ڈرون حملہ بصرہ کے آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنانے کا نہیں تھا۔ اس لیے تیل کی جہازوں پر لوڈنگ کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری ہے۔ یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ عراقی گیس فیلڈ خار مور کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ ایک ڈرون چہارشنبہ کے روز عراق کی فاء بندر گاہ کی طرف بھی آیا ، مگر عراق کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق اس سے بھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس واقعے کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔عراق ہی کی دانا گیس کمپنی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے خار مار گیس فیلڈ پر پیداوار روک دی ہے۔کمپنی ترجمان کے مطابق اس تعطل کی وجہ قابل اعتماد ذرائع سے ملنے والی وہی اطلاعات ہیں جن میں علاقائی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔عراق کے کرد علاقے میں کام کرنے والے بجلی گھر کو گیس کی فراہمی میں مسائل کی وجہ بجلی کی پیداوار 2500 میگاواٹ تک کم ہو گئی ہے۔ اس گیس فراہمی میں کمی کی وجہ خار مار گیس فیلڈ کیلئے موجود خطرات بتائے گئے ہیں۔عراقی وزارت کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ تعطل عارضی ہے۔ تمام فریق اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں کہ گیس کی فراہمی کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع ہو جائے۔ایران جنگ کی وجہ سے عراق کی جنوبی ٹرمینلز سے تیل کی برآمدات میں تعطل آیا ہے۔اس کی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش بن رہی ہے۔