’سیاست ‘کی عوامی خدمت ‘دفتر میں SIR ہیلپ ڈیسک ‘ہزاروں شہری مستفید ، عوام کا ہجوم
انتظامیہ کی خدمات پر بھرپور اطمینان۔ حیدرآباد کے تعلیمیافتہ نوجوان بھی ووٹرس کی مدد کیلئے رضاکارانہ طور پر میدان میں اتر پڑےحیدرآباد : /19 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مہم جنگی خطوط پر جاری ہے ۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست بھر میں صدفی

انتظامیہ کی خدمات پر بھرپور اطمینان۔ حیدرآباد کے تعلیمیافتہ نوجوان بھی ووٹرس کی مدد کیلئے رضاکارانہ طور پر میدان میں اتر پڑےحیدرآباد : /19 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) مہم جنگی خطوط پر جاری ہے ۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست بھر میں صدفیصد اینومریشن فارمس تقسیم کئے جاچکے ہیں اور ووٹرس کی جانب سے فارمس کی خانہ پوری کرکے انہیں دوبارہ بی ایل اوز کے پاس واپس جمع کرانے کے عمل میں بھی تیزی دیکھی جارہی ہے ۔ حکام کے مطابق اب تک وصول شدہ فارمس میں سے 68 فیصد فارمس کا کمپیوٹرائزڈ اور ڈیجیٹلائزیشن کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ تاہم اس تیز رفتاری کے باوجود ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد کے کئی علاقوں میں زمینی سطح پر ووٹرس کو شدید مشکلات اور انتظامی لاپرواہی کا سامنا ہے ۔ جب سے الیکشن کمیشن نے تلنگانہ میں SIR مہم شروع کرنے کا اعلان کیا اس کے بعد تقریباً دو ماہ سے روزنامہ سیاست نے عوامی بیداری اور رہنمائی کیلئے ایک شاندار مثال قائم کی ہے ۔ عوام میں بے چینی اور الجھن کو دیکھتے ہوئے روزنامہ سیاست کی جانب سے دفتر میں ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے ۔ جہاں روزانہ سینکڑوں شہریوں کی مفت اور مکمل رہنمائی کی جارہی ہے ۔ اس ہیلپ ڈیسک کے ذریعہ ووٹرس کو بتایا جارہا ہے کہ لسٹ میں نیا نام کیسے درج کیا جائے ، نئے ووٹرس کیلئے فارم ۔ 6 اور تصحیح ، پتہ کی تبدیلی ، ووٹر شناختی کارڈس میں موبائل نمبر کے اندراج اور تبدیلی کس طرح کی جائے اس کی مدد کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ 2002 ء کی پرانی ووٹر لسٹ میں نام کی موجودگی کی بھی جانچ کی جارہی ہے ۔ ہیلپ ڈیسک پر نہ صرف فارمس کی خانہ پوری میں رہنمائی کی جارہی ہے ۔ بلکہ آن لائن رجسٹریشن کیلئے بھی عملہ عوام سے مکمل تعاون کررہا ہے ۔ اب تک ہزاروں شہریوں نے اس ہیلپ ڈیسک سے استفادہ کرکے انتظامیہ کی خدمات پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اس دوران شہر کے مختلف اسمبلی حلقوں سے یہ بھی شکایتیں وصول ہورہے ہیں ایک اسمبلی حلقہ کے ووٹر کا نام دوسرے اسمبلی حلقے میں پایا گیا ہے ۔ یا ایک ہی گھر کے ووٹرس کے نام ایک بوتھ میں شامل رہنے کے بجائے دو یا تین بوتھس میں پائے گئے جس سے ان کے بی ایل اوز بھی تبدیل ہوگئے ۔ جن ووٹرس کا نام سال 2002 ء کے پرانے ریکارڈ میں موجود ہے ان کے ناموں میں بھی سنگین غلطیاں پائی گئی ہیں ۔ لسٹ میں کئی مقامات پر مرد ووٹر کے نام کے ساتھ خاتون کی تصویر اور خاتون کے نام کے ساتھ مرد کی فوٹو پرنٹ کردی گئی ۔ پرانے شہر کے کئی مقامات پر جہاں بوتھ لیول آفیسرس ووٹرس کی رہنمائی کررہے ہیں وہی کئی علاقوں میں ان کی شدید لاپرواہی اور عدم تعاون بھی سامنے آیا ہے ۔ عوامی شکایت کے مطابق کئی بی ایل اوز کو خود اس بات کا صحیح اندازہ یا معلومات نہیں ہے کہ فارم کی کس طرح درست طریقہ سے خانہ پری کی جائے ۔ ان تمام انتظامی خامیوں کے درمیان شہر میں تعلیمیافتہ نوجوان ایک بہترین اور مثبت مثال قائم کررہے ہیں ۔ اپنا قیمتی وقت نکال کر رضاکارانہ طور پر آگے آ رہے ہیں ۔ یہ نوجوان عام لوگوں بالخصوص خواتین اور بزرگوں کے آف لائن اور آن لائن فارمس کی خانہ پوری میں دن رات تعاون کررہے ہیں ۔ کئی مقامات پر رضاکارانہ طور پر کیمپس لگاتے ہوئے رائے دہندوں کے فارمس کی خانہ پری اور آن لائین داخل کر رہے ہیں ۔ الیکشن کمیشن سے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت کے بعد شہر میں ڈیجیٹل اندراج کا رجحان تیزی سے بڑھ گیا ہے ۔ آن لائن رجسٹریشن کی طرف راغب ووٹرس کو الیکشن کمیشن کے ویب پورٹل کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ووٹرس کا کہنا ہے کہ دن کے وقت ویب سائیٹ سست ہوجاتی ہے ۔ بعض اوقات تکنیکی مسائل کا بھی سامنا ہوتا ہے ۔ رات کے وقت اس کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ۔ 2/y