ایران کے کویت ، بحرین اور اردن میں امریکی اہداف پر حملوں کا دعویٰ
تہران ۔ 18 جولائی (ایجنسیز) ایران کی جانب سے ہفتہ کے روز خلیجی خطہ میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر نئے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ کی طرف سے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے فوجی اہداف، لاجسٹک تنصیبات اور دیگر فوجی ڈھانچوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ دونوں ممالک کے در

تہران ۔ 18 جولائی (ایجنسیز) ایران کی جانب سے ہفتہ کے روز خلیجی خطہ میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر نئے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ کی طرف سے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے فوجی اہداف، لاجسٹک تنصیبات اور دیگر فوجی ڈھانچوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتہ قبل جنگ بندی کا نازک معاہدہ ٹوٹنے کے بعد تنازعہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کویت میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث ایک سمندری پانی کو انسانی استعمال کے قابل بنانے والا ڈی سیلینیشن پلانٹ متاثر ہوا جبکہ مسلسل خطرات کے پیش نظر کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ہفتہ کے روز کہا کہ اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال الازرق ائیر بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ آئی آر جی سی نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کویت میں واقع کیمپ عریفجان میں امریکی فوجی معاونت کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا اور علی السالم ایئر بیس پر موجود ایک ریڈار تنصیب تباہ کر دی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین میں بھی پاسدارانِ انقلاب نے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی جنگی طیارہ موجود تھے، جبکہ ایک انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر پر بھی حملے کا دعویٰ کیا گیا۔ میڈیا کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ جمعہ کے روز دونوں ممالک نے بحری نقل و حمل کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی پانیوں میں بحری ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ان بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جو اس کے مقرر کردہ قواعد کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً پانچویں حصہ کی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ اس کشیدگی کے باعث جمعے کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زائد بڑھ گئیں اور ایک ماہ سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔