معاہدہ کی بار بار خلاف ورزی :کیا امریکی صدر کی دستخط بے معنی ہے ؟
تہران : 19جولائی ( یو این آئی ) ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہیکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی بار بار خلاف ورزی سے ظاہر ہوتا ہیکہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور بے معنی ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اپنے تحریری بیان میں ایرانی سپریم لیڈرکا کہنا تھا کہ آج ایک بار پھر امریکہ نے

تہران : 19جولائی ( یو این آئی ) ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہیکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی بار بار خلاف ورزی سے ظاہر ہوتا ہیکہ امریکی صدر کے دستخط بے وقعت اور بے معنی ہیں۔ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق اپنے تحریری بیان میں ایرانی سپریم لیڈرکا کہنا تھا کہ آج ایک بار پھر امریکہ نے اپنا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کر دیا ہے، جرائم اور وعدہ خلافیوں کا یہ سیاہ باب امریکہ کی بے ایمانی، غیر معقول رویے، ناقابل اعتماد ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔ایرانی سپریم لیڈرکا کہنا تھا کہ جبر، آمرانہ طرز عمل اور ظلم امریکہ کے نظریے اور پالیسی کا ناقابل تقسیم حصہ ہیں۔مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے ایران اور امریکہ کے صدور کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے معاہدے کی بار بار خلاف ورزیوں نے ایک بار پھر ایک بنیادی حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر کے دستخط بالکل بے وقعت ہیں اور ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکہ تنازعہ کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسے مزید بھاری قیمت اور مزید ذلت اٹھانا پڑیگی۔ امریکا کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایران نے اس کے لیے ایسے سبق تیار کر رکھے ہیں جنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس نازک مرحلے پر سب سے اہم تقاضوں میں سے ایک یہ ہیکہ ہر سطح پر قومی یکجہتی کو برقرار رکھا جائے اور اپنے عزیز وطن کی عزت، وقار اور خودمختاری کا تحفظ کیا جائے۔ایرانی عوام اور حکام باہمی اختلافات میں پڑنے سے اجتناب کریں، ایرانی عوام اپنے حکام اور رہنماؤں پر بھروسہ قائم کریں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگیں پھیلانا چاہتا ہے، امریکا پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔غرور، خودپسندی اور خونخواری امریکی وتیرہ ہے۔