فیملی کارڈ: کرناٹک کے عملی اقدام کی تلنگانہ میں محض زبانی تقلید
ریونت ریڈی حکومت نے کوئی احکام جاری نہیں کئے ہیں، زبانی جمع خرچ سے کام نہ چلے گا حیدرآباد۔21جولائی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں SIRکا عمل مکمل ہونے کے لئے اب10تا12 یوم باقی ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے فیملی کارڈ یا PRC پرمنینٹ ریسڈینسی کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے جبکہ پ

ریونت ریڈی حکومت نے کوئی احکام جاری نہیں کئے ہیں، زبانی جمع خرچ سے کام نہ چلے گا حیدرآباد۔21جولائی(سیاست نیوز) تلنگانہ میں SIRکا عمل مکمل ہونے کے لئے اب10تا12 یوم باقی ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے فیملی کارڈ یا PRC پرمنینٹ ریسڈینسی کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی احکام جاری نہیں کئے گئے جبکہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں حکومت نے شہریوں کے گھر تک PRC کی ڈیلیوری شروع کردی ہے۔ حکومت کرناٹک نے جو مستقل رہائشی کارڈ کی اجرائی کا فیصلہ کرتے ہوئے جو احکام جاری کئے تھے ان کے مطابق اب کارڈس کی ’’ہوم ڈیلیوری‘‘ دی جانے لگی ہے لیکن تلنگانہ میں حکومت کو بارہا متوجہ کروانے کے باوجود فیملی کارڈ یا مستقل رہائشی سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا حالانکہ گذشتہ چند یوم قبل اس بات کی اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ریاستی حکومت نے اس سلسلہ میں کابینی ذیلی کمیٹی کو جائزہ لینے کی ہدایت دی ہوئی ہے اور توقع کی جار ہی تھی کہ گذشتہ جمعہ کو ہوئے ریاستی کابینہ کے اجلاس میں PRC یا فیملی کارڈ کی اجرائی کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا لیکن کابینہ کے اجلاس میں اس سلسلہ میں کوئی مشاورت نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں تلنگانہ کے شہریوں میں بالخصوص ان شہریوں میں جنہیں نوٹس موصول ہونے کا خدشہ ہے تشویش پیدا ہورہی ہے۔حکومت تلنگانہ اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے PRC اور فیملی کارڈ کی اجرائی کے لئے نمائندگی کرنے والی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ پڑوسی ریاست کرناٹک میں کانگریس حکومت کے ہی چیف منسٹر مسٹر ڈی کے شیوکمار نے اپنے پاس کسی بھی طرح کا سروے موجود نہ ہونے کے باوجود ریاست کرناٹک کے رائے دہندوں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف ہونے سے بچانے کے لئے SIRکے آغاز کے ساتھ ہی PRC کی اجرائی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کارڈ کی اجرائی کے لئے رہنمایانہ خطوط اور قواعد کی اجرائی عمل میں لائی اور اب کرناٹک کے بیشتر اضلاع اور دیہات میں حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے PRC کی گھر پر ڈیلیوری کی جانے لگی ہے ۔ تلنگانہ میں ریاستی حکومت کے پاس 2014 کے علاوہ 2024 میں کروائے گئے سروے کا ڈاٹا اور دیگر تفصیلات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود تاحال تلنگانہ میں اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نمائندگی کرنے والوں کو یہ کہا جار ہا ہے کہ مسئلہ حکومت کے پاس زیر غور ہے۔تلنگانہ میں مشتبہ رائے دہندوں کے نام پر زائد از ایک کروڑ افراد کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کے بعد ان سے دستاویزات طلب کئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہاہے لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی ناقابل فہم ہے کیونکہ اب SIR کا عمل ختم ہونے کو بہت زیادہ دن باقی نہیں ہیں اور جن لوگوں کو نوٹس جاری کی جائیں گی اور ان کے پاس نوٹسوں کی اجرائی کے بعد جاری کردہ کارڈس یادستاویزات ہوں گے تو ایسی صورت میں ان دستاویزات کو قبول کرنے سے انکار کئے جانے کا بھی خدشہ پایا جانے لگا ہے۔ اسی لئے ریاستی حکومت کو فوری طور پر فیملی کارڈ یا PRC کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کے ذریعہ ریاست کے عوام بالخصوص رائے دہندوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم ہونے سے بچانے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ذرائع کے مطابق کرناٹک میں ریاستی حکومت نے PRC کی اجرائی کے احکام کی اجرائی کے ساتھ ہی درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع کردیا تھا۔ 3/i/k