سی جے پی کے پارلیمنٹ مارچ میں انسانی سروں کا سمندر امڈ پڑا ‘ حکومت بات چیت کیلئے مجبورہوگئی
n 50 سے زائد پولیس اہلکار و مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ 100 سے زائد افراد کی گرفتاریاںn میٹرو اسٹیشن بند ‘ ٹرین ‘ بس اور دیگر ٹرانسپورٹ خدمات متاثر ۔ انٹرنیٹ معطل کردیا گیاn پولیس کی جانب سے کئی مقامات پر لاٹھی چارج ۔ کچھ مقامات پر آنسو گیس شیل برسائے گئےn حکومت کی دعوت پر سی جے پی کے دو نمائندوں کی مرکزی

n 50 سے زائد پولیس اہلکار و مظاہرین زخمی ہوگئے ۔ 100 سے زائد افراد کی گرفتاریاںn میٹرو اسٹیشن بند ‘ ٹرین ‘ بس اور دیگر ٹرانسپورٹ خدمات متاثر ۔ انٹرنیٹ معطل کردیا گیاn پولیس کی جانب سے کئی مقامات پر لاٹھی چارج ۔ کچھ مقامات پر آنسو گیس شیل برسائے گئےn حکومت کی دعوت پر سی جے پی کے دو نمائندوں کی مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات نئی دہلی: 20 جولائی (ایجنسیز) دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ’’چلو پارلیمنٹ‘‘ مارچ کے دوران جنتر منتر پر زبردست ہنگامہ برپا ہوگیا۔ پارٹی اور اس کے حامی مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیلئے جمع ہوئے تھے ۔ پولیس نے سی جے پی کو مارچ کی اجازت نہیں دی تھی اور بڑے پیمانے پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے باوجود مظاہرین کی بھیڑ بڑھتی گئی، جس کے بعد مظاہرین اور دہلی پولیس کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔ دہلی پولیس نے کہا تھا کہ جنتر منتر کے علاوہ کسی بھی مقام پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے ، احتجاجی ریلی اور مظاہرے پر پابندی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی گئی تھی۔ دوسری جانب سی جے پی کے مارچ کے پیش نظر سکیورٹی خدشات کے باعث دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے دارالحکومت کے پانچ میٹرو اسٹیشن بند کردیئے۔ اور انٹرنیٹ سروِس معطل کردی گئی اس کے باعث سینکڑوں مسافر پریشان ہوئے اور انہیں طویل راستے اختیار کرنے پڑے۔ راجیو چوک میٹرو اسٹیشن پر بند دروازوں کے قریب مسافروں کی بھیڑ دیکھی گئی، جبکہ پٹیل چوک اسٹیشن پر سکیورٹی اہلکاروں نے جنتر منتر جانے والے افراد کو منتشر کرنے کیلئے ہلکی طاقت کا استعمال کیا۔کچھ مقامات پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیلس بھی برسائے ۔ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف نکلے ‘پارلیمنٹ چلو’ مارچ میں بڑا عوامی سیلاب امڈ پڑا اور اس دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ صبح نو بجے سے پہلے جنتر منتر کی طرف تمام سمتوں سے لوگ بڑھتے رہے اور مظاہرے میں شامل ہوتے رہے ۔ سینٹرل سیکریٹریٹ اور جنتر منتر کے آس پاس کے دیگر میٹرو اسٹیشنوں پر بھی بھیڑ پر قابو پانے اقدامات کیے گئے ۔ ہاتھ میں ترنگا اور دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے پلے کارڈز لئے مظاہرین کا سیلاب جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف بڑھا۔ مارچ نکلنے کے بعد بھی مظاہرین بڑی تعداد میں شامل ہوتے رہے ۔ جنتر منتر سے نکل کر یہ مارچ جے سنگھ مارگ سے ہوتے ہوئے پارلیمنٹ مارگ پہنچا، جہاں پولیس نے انہیں روک دیا۔ پولیس نے لاؤڈ اسپیکر پر مظاہرین کو مطلع کیا کہ انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس دوران بھیڑ پر قابو پانے ریاپڈ ایکشن فورس نے کچھ مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ جنتر منتر سے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا ہے کہ آر اے ایف مظاہرین کو منتشر کرنے طاقت کا استعمال کر رہی ہے ۔ بعد میں دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’میڈیا کے کچھ حصوں میں جنتر منتر پر دہلی پولیس کے تشدد یا لوگوں کو حراست میں لینے کے اکا دکا واقعات کا ذکر کیا گیا ہے ‘لیکن ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا ہے ۔ پولیس نے کہا کہ احتجاجی مظاہرہ کو پیشہ ورانہ طریقے سے سنبھالا جا رہا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس کا تعاون کریں۔ مظاہرین ابتدائی بیریکیڈ توڑ کر آخری بیریکیڈ کی طرف بڑھ گئے ۔ انہیں روکنے آر اے ایف نے انسانی زنجیر بنائی۔ اس دوران سی جے پی ترجمان سوربھ داس نے بتایا کہ انہیں حکومت نے بات چیت کیلئے مدعو کیا تھا اور سی جے پی کے دو نمائندوں نے مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات کی ہے ۔ انہوں نے اپنے مطالبات کا چارٹر حکومت کو پیش کردیا ہے اور جے پی نڈا نے اس پر داخلی سطح پر غور کا تیقن دیا ہے ۔ سی جے پی کے احتجاج سے دہلی میں معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں ۔ میٹرو ریل کو کئی مقامات پر روک دیا گیا ۔ بس خدمات اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت ٹھپ تھی ۔ انٹرنیٹ خدمات کو بھی معطل کردیا گیا تھا ۔ احتجاج کے دوران لاٹھی چارج و بھگدڑ اور دھینگا مشتی میں 50 سے زائد پولیس اہلکار و مظاہرین زخمی ہوئے اور مختلف مقامات پر 100 سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ۔