راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے ہاسپٹل پہونچ کر زخمی طلبہ کی عیادت کی
ونٹیلیٹر پر موجود خاتون کی ماں سے ملاقات، اظہار ہمدردی اور یگانگت، نریندر مودی اور امیت شاہ سے استعفے کا مطالبہ حیدرآباد 21 جولائی (سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے رام منوہر لوہیا ہاسپٹل پہونچ کر جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پولیس کی بہ

ونٹیلیٹر پر موجود خاتون کی ماں سے ملاقات، اظہار ہمدردی اور یگانگت، نریندر مودی اور امیت شاہ سے استعفے کا مطالبہ حیدرآباد 21 جولائی (سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے رام منوہر لوہیا ہاسپٹل پہونچ کر جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران پولیس کی بہیمانہ کارروائیوں میں زخمی زیرعلاج طلبہ سے ملاقات کی۔ نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں طلبہ تنظیمیں گزشتہ 3 ہفتوں سے نئی دہلی میں احتجاج کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کی مانگ کررہے ہیں۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرتے ہوئے اُن سے اظہار یگانگت کیا۔ پولیس کارروائی میں زخمی ایک نوجوان خاتون ہاسپٹل میں ونٹیلیٹر پر ہے، راہول اور پرینکا نے زخمی خاتون کی ماں سے ملاقات کی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اُنھوں نے ڈاکٹرس سے زخمیوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور عاجلانہ صحتیابی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری تنظیمی اُمور کے سی وینو گوپال نے بھی زخمیوں کی عیادت کی۔ کانگریس پارٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر رام منوہر لوہیا ہاسپٹل کے دورہ کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ کانگریس پارٹی نے لکھا کہ پیر کے دن پولیس کی ظالمانہ کارروائی اور لاٹھی چارج میں کئی نوجوان بُری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا ہے اور اپنی آواز بلند کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔ کانگریس پارٹی نے اِس سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کے مطالبہ کی تائید کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے کہاکہ حکومت کو نیٹ پرچہ کے افشاء کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو وزارت سے استعفیٰ دینا چاہئے۔ قبل ازیں راہول گاندھی نے لوک سبھا کے احاطہ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیاکہ وہ پولیس کی کارروائی کے معاملہ میں طلبہ سے معذرت خواہی کریں۔ اُنھوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ راہول گاندھی نے بتایا کہ اپوزیشن ارکان کے ہمراہ اسپیکر لوک سبھا اوم برلا سے ملاقات کی گئی اور طلبہ کے خلاف پولیس کارروائیوں پر مباحث کی مانگ کی گئی۔ راہول گاندھی کے مطابق اسپیکر نے کہاکہ وہ اِس سلسلہ میں حکومت سے اجازت حاصل کریں گے۔ راہول گاندھی نے افسوس کا اظہار کیاکہ اسپیکر لوک سبھا بھی مباحث کے سلسلہ میں حکومت کی اجازت کے خواہاں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اسپیکر کی جانب سے خود اِس بات کا اظہار موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ راہول گاندھی نے کہاکہ طلبہ کے مطالبات، اُن کا مستقبل اہمیت کا حامل ہے اور پولیس کی جانب سے جس انداز میں پٹائی گئی، یہ کارروائی غیر ہندوستانی ہے۔ نریندر مودی نے کل کے واقعات کے سلسلہ میں معذرت خواہی تک نہیں کی۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ تک مارچ کی کوشش کے دوران اچانک کشیدگی پیدا ہوگئی اور پولیس نے جگہ جگہ لاٹھی چارج کرتے ہوئے احتجاجیوں پر آنسو گیس کے شل برسائے۔ اِسی دوران پولیس کی جانب سے بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ 118 سے زائد پولیس ملازمین اور عہدیدار زخمی ہوئے جبکہ زخمیوں احتجاجیوں کی تعداد 60 ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس پر احتجاجیوں کے خلاف زائد طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہاکہ پولیس کا رویہ بہیمانہ تھا اور کئی طلبہ اِس کارروائی میں زخمی ہوگئے اور اُنھیں فریکچر آئے۔ اُنھوں نے بتایا کہ 15 سالہ لڑکی کو بھی پولیس نے ظلم کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف دہلی پولیس نے احتجاجیوں پر پولیس کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا اور کہاکہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیریکیٹس کو ہٹادیا گیا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔V/1/k/i