امریکہ جنگ روکنے پر آمادہ نہیں، جنگ بندی کی تجویز پر خاموشی !
قطر، عمان، مصر اور پاکستان کی جانب سے 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پرامریکہ کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں واشنگٹن، 21 جولائی (ایجنسیز):امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دو ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود فوری جنگ بندی کے امکانات معدوم دکھائی دے رہے ہیں۔ قطر، عمان، مصر اور پاکستان کی جانب سے

قطر، عمان، مصر اور پاکستان کی جانب سے 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پرامریکہ کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں واشنگٹن، 21 جولائی (ایجنسیز):امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دو ہفتوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود فوری جنگ بندی کے امکانات معدوم دکھائی دے رہے ہیں۔ قطر، عمان، مصر اور پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے، تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اب تک اس تجویز کی نہ تو عوامی حمایت کی ہے اور نہ ہی فوجی کارروائیاں روکنے کا کوئی اشارہ دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ موجودہ مرحلے پر سفارتکاری کے مقابلے میں فوجی دباؤ زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر جنگ کے دوران واشنگٹن اپنی عسکری برتری برقرار رکھتا ہے تو مستقبل میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں اسے زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل ہوگی۔ اسی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ جنگ بندی کے بجائے اپنی حکمت عملی جاری رکھنے کے حق میں نظر آتی ہے۔ٹرمپ کے محتاط رویے کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز بھی ہے۔ مسلسل امریکی حملوں کے باوجود ایران نے اب تک اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر بند نہیں کیا، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت گزرتی ہے۔ امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ مزید فوجی دباؤ ایران کو ایسے اقدامات سے باز رکھنے اور مذاکرات میں رعایت دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔واشنگٹن کے سخت مؤقف کے پیچھے ایک اور اہم سبب اردن میں امریکی فوجیوں پر حالیہ ایرانی میزائل حملہ بھی ہے، جس میں دو امریکی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد امریکی حکومت کے اندر جنگ بندی کے بجائے جوابی کارروائی اور عسکری دباؤ بڑھانے کی رائے مضبوط ہوئی، جس نے فوری سفارتی پیشرفت کے امکانات مزید کم کردیا۔دوسری جانب مجوزہ 10 روزہ جنگ بندی مستقل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبوری اعتماد سازی کا منصوبہ ہے۔ اس تجویز کے تحت امریکہ اور ایران فوری طور پر لڑائی روکیں گے، جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ محفوظ بنانے پر مذاکرات ہوں گے اور اگر حالات سازگار رہے تو دونوں ممالک کے درمیان وسیع سیاسی اور سکیورٹی مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ قطر، عمان، مصر اور پاکستان اس پورے عمل میں ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ثالثی کرنے والے چاروں ممالک دونوں فریقوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھتے ہیں۔ عمان کئی برسوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان خفیہ سفارتی رابطوں کا اہم ذریعہ رہا ہے جبکہ قطر بھی دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کی وجہ سے خطے میں ایک مؤثر ثالث سمجھا جاتا ہے۔ مصر عرب دنیا میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔، جبکہ پاکستان، جو ایران کا ہمسایہ بھی ہے، خلیجی ممالک اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شامل ہوا ہے۔جنگ بندی کی اس کوشش کی اہمیت صرف لڑائی روکنے تک محدود نہیں بلکہ اس کا براہ راست تعلق عالمی معیشت سے بھی ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہنے سے عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً بھارت سمیت ایشیائی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔فی الحال امریکہ اور ایران میں سے کوئی بھی فریق پسپائی اختیار کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ مزید فوجی دباؤ اسے مذاکرات میں بہتر پوزیشن دے گا، جبکہ ایران بھی عسکری دباؤ کے تحت رعایت دینے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز سفارت کاری کا ایک ممکنہ راستہ فراہم کرتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک کب یہ محسوس کرتے ہیں کہ میدان جنگ کے مقابلے میں مذاکرات کی میز ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔