امریکی فوج کے ایران میں فوجی کمانڈ مراکز پر حملے
تہران ۔ 21 جولائی (ایجنسیز) امریکی فوج نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی فضائی حملے کیے گئے، جن میں فوجی کمانڈ مراکز، بحری اہداف، میزائل لانچنگ مقامات، ڈرون تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بی

تہران ۔ 21 جولائی (ایجنسیز) امریکی فوج نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف مسلسل دسویں رات بھی فضائی حملے کیے گئے، جن میں فوجی کمانڈ مراکز، بحری اہداف، میزائل لانچنگ مقامات، ڈرون تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے، جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔بیان کے مطابق حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ مراکز، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ایران کی تجارتی جہاز رانی پر حملے جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔سینٹکام نے مزید کہا کہ امریکی افواج مکمل الرٹ ہیں اور آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے شہری بحری جہازوں پر ایران کی بلااشتعال کارروائیوں کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔پیر کی شام بھی امریکی فوج نے ایران پر مسلسل دسویں رات حملوں کا اعلان کیا تھا۔ سینٹکام کے مطابق گرینچ وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہونے والے یہ حملے ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کیلئے کیے گئے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چابہار، کنارک اور وسطی ایران کے شہر اصفہان میں بھی متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اصفہان کے گورنر نے شہر میں کسی دھماکے کی تردید کی ہے۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا کہ ایران اس وقت امریکہ کے ساتھ ”ہمہ گیر جنگ” کی صورتحال میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بوشہر شہر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جہاں ایران کا جوہری بجلی گھر واقع ہے۔مقامی حکام کے مطابق 7 جولائی کو دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد امریکی حملے، جو ابتدا میں جنوبی ایران تک محدود تھے، اب ملک کے وسطی اور شمال مغربی علاقوں تک بھی پھیل چکے ہیں۔ان جھڑپوں کے باعث 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت بھی غیر مؤثر ہو گئی، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر مذاکرات شروع ہونا تھے تاکہ جاری جنگ کا مستقل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔