کریم نگر شہر میں ایک اور بڑی ڈکیتی کا واقعہ
66 تولہ سونا ، 21 لاکھ روپئے نقد رقم کی چوری ، پولیس مصروف تحقیقات کریم نگر۔ 22 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کریم نگر شہر کے بھگت نگر علاقے میں منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب ایک سنسنی خیز ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جس میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بزرگ کے مکان میں گھس کر تقریباً 66 تولے سونا، 10 تولے
66 تولہ سونا ، 21 لاکھ روپئے نقد رقم کی چوری ، پولیس مصروف تحقیقات کریم نگر۔ 22 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کریم نگر شہر کے بھگت نگر علاقے میں منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب ایک سنسنی خیز ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جس میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بزرگ کے مکان میں گھس کر تقریباً 66 تولے سونا، 10 تولے چاندی اور 21 لاکھ روپے نقد لوٹ لیے۔ واردات کے بعد ملزمان کرایہ داروں کی دو موٹر سائیکلیں بھی لے کر بائی پاس روڈ کی جانب فرار ہوگئے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ ون ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع بھگت نگر میں پیش آیا، جہاں 81 سالہ عظمت علی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ متاثرہ خاندان کے مطابق رات تقریباً 12:30 بجے آٹھ کے قریب افراد، جو ماسک اور دستانے پہنے ہوئے تھے، مکان میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے بزرگ عظمت علی کا منہ دبا کر قابو میں لیا، جبکہ گھر میں موجود تین خواتین کے منہ میں کپڑا ٹھونس کر انہیں اسلحہ دکھاتے ہوئے دھمکایا۔ اس دوران عظمت علی پر حملہ کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔پولیس کو جائے واردات سے ایک پستول بھی ملا، تاہم ابتدائی جانچ میں وہ کھلونا پستول نکلا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر پولیس نے ان کے بائی پاس روڈ کی طرف فرار ہونے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ملزمان کسی گاڑی میں آئے تھے یا پیدل پہنچے تھے، اور آیا انہوں نے اپنی گاڑی شہر کے مضافات میں کھڑی کی تھی یا نہیں۔پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔ عظمت علی کے کریم نگر میں متعدد مقامات پر جائیدادیں اور بھگت نگر میں تجارتی کمپلیکس موجود ہیں۔پولیس اس پہلو سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ کسی بین ریاستی ڈکیت گروہ کی کارروائی ہے یا پھر گھر اور خاندان کی مکمل معلومات رکھنے والے افراد نے منصوبہ بندی کے تحت اس واردات کو انجام دیا۔ اس بات کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے کہ آخر صرف عظمت علی کے مکان کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا۔اطلاع ملتے ہی کریم نگر پولیس کمشنرغوث عالم، پولیس کے اعلیٰ افسران، فارنسک ٹیم اور کلوز ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھا کرکے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔