اسرائیل کے مسئلہ پر امریکی ڈیموکریٹک پارٹی میں تقسیم شدت اختیار کر گئی
واشنگٹن ۔ 21 جولائی (ایجنسیز) گزشتہ ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کیلئے امریکی فنڈنگ روکنے کی ایک تجویز پر ہونے والی شدید بحث نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو نمایاں کر دیا۔اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ترقی پسند (پروگریسو) دھڑے کا اثر و رسوخ بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جو اسرائیلی

واشنگٹن ۔ 21 جولائی (ایجنسیز) گزشتہ ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان میں اسرائیل کیلئے امریکی فنڈنگ روکنے کی ایک تجویز پر ہونے والی شدید بحث نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو نمایاں کر دیا۔اس کے ساتھ ہی پارٹی کے ترقی پسند (پروگریسو) دھڑے کا اثر و رسوخ بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، جو اسرائیلی حکومت کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔امریکی نیوز ویب سائٹ ”ایکسیوس” کی رپورٹ کے مطابق 103 ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے وزارتِ خارجہ کے بجٹ سے متعلق بل میں ایک ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس قانون کے تحت مختص کوئی بھی رقم اسرائیل کیلئے استعمال نہ کی جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر سیاسی رجحانات میں تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔اگرچہ بعض ڈیموکریٹک ارکان نے اس ترمیم پر تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ اس میں فوجی امداد کے علاوہ سفارتی معاونت کے پروگراموں کو بھی مستثنیٰ نہیں رکھا گیا تھا۔تاہم انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی غزہ اور لبنان سے متعلق پالیسیوں کے خلاف سیاسی پیغام دینے کیلئے اس کی حمایت کی۔ایک ایسے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس، جو ایک اہم انتخابی حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل کے بارے میں ووٹرز کی رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور ان کی ذمہ داری اپنے حلقے کے عوام کے مؤقف کی نمائندگی کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے امریکی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ کس طرح خرچ کیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی تقریباً 85 فیصد رہائشی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ادھر تنظیم جسٹس ڈیموکریٹس (Justice Democrats) کے ترجمان اسامہ اندرابی نے کہا کہ ان کی حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی اور اسرائیل نواز لابی اے آئی پیک (AIPAC) کے حمایت یافتہ امیدواروں کی شکست نے ڈیموکریٹک پارٹی کو اپنے ووٹرز کے مطالبات پر زیادہ سنجیدگی سے توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے۔