تاریخی مکہ مسجد کی سیکور یٹی پر سوالیہ نشان
سوائے جمعہ کے دوسرے دنوں میں موثر انتظامات ندارد، مصلیوں اور سیاحوں کو مشکلات حیدرآباد : /23 جولائی (سیاست نیوز) شہر کی تاریخی مکہ مسجد کی سیکو ریٹی پر پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔ سوائے نماز جمعہ کے کسی اور دن سیکو ریٹی کا موثر انتظام نہیں ہوتا ۔ مسجد کی سیکوریٹی میں ارباب مجاز پر ہمیشہ لاپرواہی کے ا

سوائے جمعہ کے دوسرے دنوں میں موثر انتظامات ندارد، مصلیوں اور سیاحوں کو مشکلات حیدرآباد : /23 جولائی (سیاست نیوز) شہر کی تاریخی مکہ مسجد کی سیکو ریٹی پر پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔ سوائے نماز جمعہ کے کسی اور دن سیکو ریٹی کا موثر انتظام نہیں ہوتا ۔ مسجد کی سیکوریٹی میں ارباب مجاز پر ہمیشہ لاپرواہی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔مسجد میں مصلیوں کے علاوہ سیاحوں کی کثیر تعداد آتی ہے اور باضابطہ طور پر تلاشی کا نظام بھی ہے ۔ مکہ مسجد میں کیمرے بھی ہیں لیکن ان کی کارکردگی اور مقامی پولیس اسٹیشن سے ان کا رابطہ تاحال ایک معمہ بنا ہوا ہے۔گزشتہ دنوںایک نوجوان پر حملہ کیا گیا اور اس واقعہ نے یہ ثابت کردیا کہ مکہ مسجد میں اب نشہ (گانجہ استعمال) کرنے والے بھی آنے لگے ہیں جن سے نظم و ضبط خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ اترپردیش سے تعلق رکھنے والا ارشد مکہ مسجد کے مشاہدہ کیلئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہنچا ۔عنبر پیٹ میں مقیم اپنے بھائی سے ملاقات کیلئے وہ حیدرآباد آیا تھا ۔ مکہ مسجد میں ایک اجنبی نے اس کے ساتھیوں سے جھگڑاکیا اور ارشد پر حملہ کردیا جس میں وہ شدید زخمی ہوگیا اور اس کو تین تا چار ٹانکیلگے۔ /19 جولائی کو پیش آئے اس واقعہ پر چارمینار پولیس میں شکایت درج کرلی گئی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ شکایت تو درج ہوئی ہے ۔ مکہ مسجد کے سامنے اور چارمینار کے دامن میں موجودہ کاروباریوں اور فٹ پاتھ کاروباریوں کے مسائل اور مبینہ طورپر ان سے معمول میں پولیس کی دلچسپی دکھائی دیتی ہے لیکن مسجد کی سیکوریٹی پر توجہ کیوں نہیں۔ اگر توجہ ہے تو نتائج ایسے کیوں؟ شہریوں کا یہ سوال ہے جو ارباب مجاز کے جواب کا منتظر ہے ۔ ع