نیٹ معاملہ:حکومت اپوزیشن کے ہر سوال کا جواب دینے تیار
نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) بی جے پیکے صدر نیز راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ نتن نبین نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو نیٹ معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ نبین نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ کانگریس سمی

نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) بی جے پیکے صدر نیز راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ نتن نبین نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو نیٹ معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان کے ہر سوال کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ نبین نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا کہ کانگریس سمیت پورا اپوزیشن بحث سے بھاگ رہا ہے ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جیسے ہی وہ ایوان میں آئیں گے ، ملک کے عوام اور نوجوانوں کے سامنے ان کا دہرا کردار پوری طرح سے بے نقاب ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ “ہم پورے اپوزیشن کو کھلا چیلنج دیتے ہیں۔ آئیے ، ایوان میں نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹسٹ (نیٹ) سمیت طلبہ اور نوجوانوں سے جڑے ہر معاملے پر کھلی بحث کریں۔این ڈی اے حکومت ہر موضوع پر بات چیت کرنے اور ہر سوال کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔”انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی اور اپوزیشن کی سیاسی تاریخ بحث سے بچنے کی رہی ہے ۔ اسی لیے ، ایوان میں بحث کا سامنا کرنے کے بجائے وہ اس سے بھاگتے ہیں۔ نیٹ معاملے پر اپوزیشن انتشار پھیلانے کوشاں:سدھانشو نئی دہلی، 23 جولائی (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر سدھانشو ترویدی نے کانگریس نیز دیگر اپوزیشن پارٹیوں پر نیٹ پیپر لیک معاملے پر نظم وضبط قائم کرنے کے بجائے انتشار پھیلانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ڈاکٹر ترویدی نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے ) کے ارکانِ پارلیمنٹ نیشنل ایلیجیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) اور نظامِ تعلیم پر پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن کانگریس نہیں چاہتی کہ ایوان میں اس پر بحث ہو۔ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت اس معاملے میں حساس ہے ۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو صاف کہا کہ طلبہ کے مفادات سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے اور وہ اس معاملے میں انکا موقف بالکل واضح ہے کہ گنہگاروں کو سخت سزا ملنی چاہیے ۔ اس لیے ، فاسٹ ٹریک کورٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ تیزی سے انصاف مل سکے اور گنہگاروں کو فوری سزا دی جا سکے ۔انہوں نے کہاکہ “ہماری حکومت طلبہ کے مفادات کے تئیں حساس ہے ۔ طلبہ کو کسی سیاسی نقطہ نظر سے نہیں دیکھ رہی ہے ۔ اپوزیشن نظم وضبط قائم کرنے کے بجائے انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ میں طلبہ سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ کچھ موقع پرست، اقتدار کے بھوکے اور انارکی پسند عناصر آپ کی تحریک کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لیے وقت فوقت اپنا چہرہ بدلتے رہتے ہیں۔”