دو حلقہ جات میں نام کی موجودگی ثابت کرنے اپوزیشن کو ریونت ریڈی کا چیلنج
تلنگانہ میں SIR مہم 70 فیصد مکمل، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر بی آر ایس خاموش؟ چیف منسٹر کی میڈیا سے بات چیت حیدرآباد ۔23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دو اسمبلی حلقہ جات کی فہرست رائے دہندگان میں ان کے نام کی موجودگی سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا۔ میڈیا سے غیر رسمی با

تلنگانہ میں SIR مہم 70 فیصد مکمل، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر بی آر ایس خاموش؟ چیف منسٹر کی میڈیا سے بات چیت حیدرآباد ۔23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے دو اسمبلی حلقہ جات کی فہرست رائے دہندگان میں ان کے نام کی موجودگی سے متعلق اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کردیا۔ میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اگر دو حلقہ جات میں میرے نام کی موجودگی کا ثبوت ہو تو الیکشن کمیشن سے شکایت کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ انہوں نے قواعد کے مطابق اپنا نام ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کو منتقل کرایا ہے۔ سابق میں کوڑنگل ، گدوال اور عالم پور جیسے علاقے کرناٹک کے حدود میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن قائدین حقائق سے واقف ہوئے بغیر محض بیان بازی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست کے قبائلی علاقوں میں عوام روزگار کے سلسلہ میں دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور صرف رائے دہی کے موقع پر اپنے گاؤں میں واپس آتے ہیں۔ ایسے غریب گریجن رائے دہندوں کے ناموں کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے۔ فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کے کام میں بوتھ لیول ایجنٹس کی ذمہ داری ہے کہ غریب گریجن رائے دہندوں کے ناموں کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس مہم کے ذریعہ کانگریس کے ووٹ بینک کو کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے گریجن طبقات کے خلاف شروع کی گئی مہم کو ناکام بنانا بوتھ لیول ایجنٹس کی ذمہ داری ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہر رائے دہندہ کو چاہئے کہ وہ SIR مہم کے قواعد کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے نام کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ تلنگانہ میں SIR کا کام 70 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔ مزید 30 فیصد کام کی تکمیل باقی ہے۔ کانگریس کے کارکنوں اور بوتھ لیول ایجنٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ SIR مہم میں رائے دہندوں سے تعاون کریں۔ چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ گلوبرینا کمپنی کے ٹی آر کا بے نامی ادارہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گلو برینا کی جانب سے تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ امتحانات میں بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں 27 طلبہ نے خودکشی کی تھی۔ اس ادارہ کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے CBSE امتحانات کا کنٹراکٹ حاصل کیا گیا۔ اسی کی بنیاد پر نیٹ امتحان میں بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کے ٹی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ گلوبرینا کمپنی کی بے قاعدگیوں پر عوام سے معذرت خواہی کریں۔ انہوں نے بی آر ایس سے سوال کیا کہ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ پر خاموش کیوں ہیں؟ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت ہے جس کے نتیجہ میں بی آر ایس نے ابھی تک دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور میں دھرنا چوک بند کردیا گیا تھا جسے کانگریس حکومت نے عوام کیلئے کھول دیا۔ اب اسی مقام پر کے ٹی آر دھرنا کریں گے۔ کے ٹی آر کی سالگرہ کے بارے میں سوال پر ریونت ریڈی نے کہا کہ کے ٹی آر کو سالگرہ کے موقع پر دعوت کی مانگ کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کی دعوت کو میں قبول نہیں کرسکتا کیونکہ ان کی دعوت کچھ اور ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہریش راؤ کی خدمات بہتر تھیں تو پھر انہیں وزارت سے علحدہ کیوں کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے تحت بیاریجس میں نقائص کے بارے میں بی آر ایس قائدین خاموش ہیں کیونکہ بی آر ایس دور حکومت میں نقائص کے ساتھ تعمیری کام انجام دیئے گئے ۔ چیف منسٹر نے الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں ایس آئی آر مہم کے ذریعہ بی جے پی ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتوں کے ناموں کو فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ مہم کے بارے میں عوام کی غفلت سے ناموں کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ چیف منسٹرنے کہا کہ بی جے پی داخلی اختلافات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندراماں ہاؤزنگ کے تحت حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ کور اربن ریجن کے تحت اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کا آغاز کیا گیا۔1/k