ایرانی رہنما پاگل ہیں ، ٹرمپ کی تنقید
واشنگٹن ۔ 24 جولائی (ایجنسیز) امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کے مؤثر ہونے کے بارے میں زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ ایک سخت ترین لائحہ عمل اپنانے کی طرف مائل ہیں جس میں تہران کے خلاف فوجی حملے جاری رکھنا بھی شامل ہے۔ا

واشنگٹن ۔ 24 جولائی (ایجنسیز) امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی راستے کے مؤثر ہونے کے بارے میں زیادہ شکوک و شبہات کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ ایک سخت ترین لائحہ عمل اپنانے کی طرف مائل ہیں جس میں تہران کے خلاف فوجی حملے جاری رکھنا بھی شامل ہے۔اخبار نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ٹرمپ نے حال ہی میں اوول آفس میں ہونے والی ایک میٹنگ کے دوران ایرانی رہنماؤں پر شدید تنقید کی اور انہیں ’پاگل‘ قرار دیا جبکہ یہ مؤقف اپنایا کہ ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔اہلکار نے مزید کہا کہ ٹرمپ خود کو ایران سے بدلہ لینے کی حالت میں دیکھتے ہیں اور وہ فوجی حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کے علاوہ کسی بہتر آپشن کے قائل نہیں ہیں۔اخبار نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس جنگ نے ٹرمپ اور ان کے کئی اعلیٰ مشیروں پر ذاتی نوعیت کے اثرات مرتب کیے ہیں کیونکہ ایرانیوں کی طرف سے انہیں قتل کرنے کی دھمکیوں کے بارے میں انٹیلی جنس وارننگز موصول ہو رہی ہیں۔دوسری جانب دو امریکی ذرائع نے اخبار کو بتایا کہ جیرڈ کشنر اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اب بھی سفارتی راستے کے کمزور ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے کے امکان کے بارے میں پرامید ہیں۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام )نے ایران کے اندر اہداف کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں کی لگاتار تیرہویں رات مکمل ہونے کا اعلان کیا جو کہ ایک ایسی مہم کا حصہ ہے جسے واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کیلئے تہران کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنا ہے۔امریکی سنٹرل کمانڈ نے بتایا کہ حملوں کی یہ لہر دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک بیان میں اطلاع دی کہ امریکی فورسز نے گذشتہ شام چھ بج کر بیالیس منٹ ایرانی فوجی اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی رات کا آغاز کیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کا محاسبہ کرنا اور تجارتی جہاز رانی کی نقل و حرکت کیلئے پاسداران انقلاب کی طرف سے پیدا ہونے والے خطرات کو محدود کرنا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بار پھر کہا کہ یہ حملے سویلین ملاحوں اور علاقائی پانیوں کو پار کرنے والے تجارتی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں جبکہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بین الاقوامی نیوی گیشن کے بہاؤ کو بحال کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔