ہم ایران کیخلاف امریکی کارروائیوں میں شریک نہیں : کویت
کویت سٹی، 26 جولائی (یو این آئی):کویت نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ کویتی حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سرزمین یا فضائی حدود کسی جارحانہ کارروائی کیلئے استعمال

کویت سٹی، 26 جولائی (یو این آئی):کویت نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ کویتی حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی سرزمین یا فضائی حدود کسی جارحانہ کارروائی کیلئے استعمال نہیں ہوئیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں کویت کی سفیر شیخہ الزین الصباح نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے اداریہ بورڈ کو ایک خط ارسال کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ کویت ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہیں تھا۔ سفیر نے اپنے خط میں کہا کہ نہ تو کویت نے اپنے لڑاکا طیارے ایران کے خلاف استعمال کیے اور نہ ہی اپنی سرزمین، فضائی حدود یا علاقائی سمندری حدود کو کسی جارحانہ فوجی کارروائی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ کویت نیوز ایجنسی کے مطابق شیخہ الزین الصباح نے زور دیا کہ کویت کی خارجہ پالیسی علاقائی استحکام، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور تنازعات کے سفارتی حل پر مبنی ہے ، اس لیے اس نوعیت کی رپورٹس حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔ اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کویت اور بحرین نے بھی ایران میں بعض اہداف پر حملوں کیلئے اپنے لڑاکا طیارے استعمال کیے تھے ۔ دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا تھا اور یہ کارروائیاں امریکہ کی جانب سے ایرانی شہروں پر حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں۔خبر لکھے جانے تک بحرین کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی تفصیلی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ کویت نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اس نوعیت کی رپورٹس خطے کے سفارتی ماحول پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، جس کے باعث متعلقہ ممالک اپنے مؤقف کی فوری وضاحت کر رہے ہیں۔