مسلمان سیاست سے کنارہ کشی کی بجائے سرگرم حصہ داری کو یقینی بنائیں
آئی ایم سی آر کے اجلاس میں مشورہ ۔ ملک کی سرکردہ مسلم شخصیتوں کی شرکت ۔ کئی تجاویز پیش کی گئیںحیدرآباد۔26 جولائی(سیاست نیوز) ملک میں مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانے مسلمانوں کو سیاست سے کنارہ کشی کی بجائے اس میں سرگرم حصہ لینے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ وہ اپنی سیاسی اہمیت کو اقتدار کے

آئی ایم سی آر کے اجلاس میں مشورہ ۔ ملک کی سرکردہ مسلم شخصیتوں کی شرکت ۔ کئی تجاویز پیش کی گئیںحیدرآباد۔26 جولائی(سیاست نیوز) ملک میں مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ اور تابناک بنانے مسلمانوں کو سیاست سے کنارہ کشی کی بجائے اس میں سرگرم حصہ لینے کے اقدامات کرنے چاہئے تاکہ وہ اپنی سیاسی اہمیت کو اقتدار کے حصول کی کوشاں سیاسی جماعتوں پر واضح کرسکیں۔ 3ماہ بعد دوبارہ اجلاس منعقد کرکے ملک کے مسائل اور ان اٹھائی جانے والی مؤثر آواز اور ان کے حل کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ 24 جولائی کو کانسٹیٹیوشنل کلب میں ہوئے اجلاس میں فیصلہ کے مطابق تشکیل دی گئی اس کمیٹی کے سلسلہ میں25جولائی کو انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سابق چیف منسٹر جموں وکشمیر محبوبہ مفتی‘ جناب سلمان خورشید ‘ جناب محمد ادیب ‘ جناب اے اے فاطمی ‘ جناب ملک معتصم خان‘ و دیگر نے تفصیلات سے واقف کروایا۔ اجلاس میں سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر جناب فاروق عبداللہ ‘ محترمہ محبوبہ مفتی‘ سابق مرکزی وزیر جناب سلمان خورشید ‘ اراکین پارلیمان جناب سید روح اللہ مہدی ‘ جناب ضیاء الرحمن برق‘ جناب محب اللہ ندوی‘ محترمہ اقراء حسن ‘ جناب عمران مسعود‘ کے علاوہ مذہبی رہنماء امیر جماعت جناب سید سعادت اللہ حسینی ‘ مولانا کلب جواد نقوی ‘ جناب ملک معتصم خان‘ جناب ناظم الدین فاروقی ‘ جناب ندیم خان اے پی سی آر‘ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست ‘ محترمہ عظمیٰ ناہید ‘ محترمہ ڈاکٹر اسمٰی زہرہ ‘ جناب سید نجیب علی‘ جناب ظفرالاسلام خان و ملک بھرکئی سرکردہ شخصیات موجود تھیں۔پریس کانفرنس میں مولانا سید سرور چشتی درگاہ اجمیر شریف نے ملک کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرکے سرکاری سرپرستی میں مظالم کا تذکرہ کیا۔ اجلاس میں جناب عامر علی خان نیوزایڈیٹر سیاست نے اپنی مختصر تجاویز کے دوران کہا کہ مسلمانوں کے مستقبل کو محفوظ و تابناک بنانے ضروری ہے کہ پسماندہ اورغریب مسلمانوں کے انشورنس کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کی جانوں کی حفاظت ہوسکے اور اگر کوئی انہیں نشانہ بنائے تو ان کے مفلوک الحال خاندانوں کی مالی مدد بھی ہوسکتی ہے۔ جناب محمد ادیب سابق رکن راجیہ سبھا نے معززین کی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے نئی قراردادوں کی تیاری اور ان پر عمل کا لائحہ عمل تیار کرنے کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ آئی ایم سی آر دراصل ہندستان بھر کے مسلمانوں کی مدد کیلئے حکمت عملی تیار کرکے ان کے درمیان پہنچنے کوشش کر رہی ہے ۔اجلاس میں ملک بھر کے مسلمانوں پر مظالم سے متعلق پرزینٹیشن اے پی سی آر کے جناب ندیم خان نے پیش کیا اور کہا کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔جناب فاروق عبداللہ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر نے ملت اسلامیہ کی ان نمائندہ شخصیات کو مشورہ دیا کہ وہ انتخابات یا جمہوری عمل کے بائیکاٹ کے نظریہ کو ترک کریں اور ملک کی سیاست میں سرگرم حصہ لینے اقدامات کریں ۔ انہو ںنے بتایا کہ کشمیر میں انتخابات کے بائیکاٹ سے کشمیریوں کو جو نقصان ہوا اس کے نتائج سے وہ واقف ہیں اسی لئے ملک میں اس طرح کے حالات پیدا نہ ہوں وہ یہ بات کہہ رہے ہیں۔3