ملک کی کئی ریاستوں میں کمسن بچے تغذیہ بخش غذاؤں سے محروم
جھارکھنڈ، بہار، اترپردیش سرفہرست، سرکاری سطح پر نیوٹریشن کے دعوے بے اثر حیدرآباد۔ 26 جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں کمسن بچوں میں غذائیت کی کمی بدستور ایک سنگین مسئلہ برقرار ہے۔ سرکاری سطح پر بچوں کو تغذیہ بخش غذاؤں کی سربراہی کے بھلے ہی دعوے کئے جاتے رہے لیکن ہندوستان کی کئی ریاستوں میں آج بھی 5

جھارکھنڈ، بہار، اترپردیش سرفہرست، سرکاری سطح پر نیوٹریشن کے دعوے بے اثر حیدرآباد۔ 26 جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں کمسن بچوں میں غذائیت کی کمی بدستور ایک سنگین مسئلہ برقرار ہے۔ سرکاری سطح پر بچوں کو تغذیہ بخش غذاؤں کی سربراہی کے بھلے ہی دعوے کئے جاتے رہے لیکن ہندوستان کی کئی ریاستوں میں آج بھی 5 سال سے کم عمر کے بچوں میں غذائیت کی کمی محکمہ جات کے لئے چیالنج بن چکی ہے۔ آلودگی سے پاک ماحول، پروٹین اور نیوٹریشن کی غذاؤں کی کمی کا شکار بچوں میں زیادہ تر کا تعلق غریب اور متوسط طبقات سے ہے۔ غذائیت سے کمی کا شکار ریاستوں میں جھارکھنڈ اور بہار سرفہرست ہیں۔ 5 سال سے کم عمر بچوں میں غذائیت کی کمی کے معاملہ میں جھارکھنڈ 54.5 فیصد جبکہ بہار 53 فیصد متاثرہ بچوں کی تعداد پر مشتمل ہے۔ اترپردیش میں 52، مدھیہ پردیش 51 اور گجرات و مہاراشٹرا میں فی کس 50 فیصد بچے غذائیت سے محروم ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ دیگر ریاستیں جہاں غذائیت سے محروم بچوں کی تعداد 40 تا 50 فیصد کے درمیان ہے ان میں چھتیس گڑھ، راجستھان، اڈیشہ اور آندھرا پردیش شامل ہیں۔ تلنگانہ میں سروے کے مطابق 43 فیصد کمسن بچے تغذیہ بخش غذا سے محروم ہیں۔ سرکاری سطح پر نیوٹریشن، ہیلت کیئر اور صحت و صفائی کی مہمات کے بارے میں بڑے پیمانے پر تشہیر کی جاتی ہے اور وزارت صحت کی جانب سے بھاری بجٹ خرچ کرنے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے لیکن بنیادی سطح پر غذیب اور متوسط طبقات کے کمسن بچے غذائیت سے محرومی کے نتیجہ میں مختلف عوارض کا شکار ہیں۔ غذائیت کی کمی کمسن بچوں کی اموات کا بھی سبب بن سکتی ہے۔ 1؍F