جوہر یونیورسٹی عمارتوں کی مسماری پر عبوری روک کا ایس ڈی پی آئی نے خیرمقدم کیا
لکھنؤ،28 جولائی (یو این آئی) سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، اتر پردیش کے ریاستی صدر نظام الدین خان نے رام پور واقع جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کے معاملے میں مرادآباد کے ڈیویژنل کمشنر کی جانب سے رامپور کے ضلع مجسٹریٹ کے مسماری کے حکم پر عبوری روک لگائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے ۔ انہو

لکھنؤ،28 جولائی (یو این آئی) سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، اتر پردیش کے ریاستی صدر نظام الدین خان نے رام پور واقع جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کیے جانے کے معاملے میں مرادآباد کے ڈیویژنل کمشنر کی جانب سے رامپور کے ضلع مجسٹریٹ کے مسماری کے حکم پر عبوری روک لگائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی کارروائی رک گئی ہے ، جو ایک قابلِ خیرمقدم قدم ہے ۔ نظام الدین خان نے کہا کہ اب انتظامیہ کو اس معاملے میں محکمۂ ہاؤسنگ و شہری منصوبہ بندی، سیکشن۔3، لکھنؤ کی جانب سے 18 جون 2026 کو جاری کردہ حکومتی حکم نامہ، مکتوب نمبر 8-3099/223/2022 ہاؤسنگ و شہری منصوبہ بندی سیکشن۔3، کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی دفعات کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ حکومتی حکم نامے کا موضوع ترقیاتی اتھارٹی کے علاقوں میں ضلع پنچایتوں کی جانب سے منظور کیے گئے نقشوں کو باقاعدہ کرنے کے سلسلے میںہے ۔ حکم نامہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ترقیاتی اتھارٹی کے علاقوں میں ضلع پنچایتوں کی جانب سے منظور کیے گئے نقشوں اور موقع پر پہلے ہی مکمل ہو چکی تعمیرات کے سلسلے میں یو پی اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 1973 کی دفعات کے تحت نوٹس اور مسماری کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں۔ ایسے معاملات میں ضلع پنچایتوں کی جانب سے منظور کیے گئے نقشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی دائرئہ اختیار سے متعلق بے ضابطگیوں کو دور کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ ایس ڈی پی آئ کے ریاستی صدر نے کہا کہ اسی حکم نامہ میں یو پی اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ، 1973 کی دفعہ 41 کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات کے تحت ترقیاتی اتھارٹیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ ترقیاتی اتھارٹی کے علاقوں میں ضلع پنچایتوں کی جانب سے منظور کیے گئے نقشوں اور ان کی بنیاد پر کی گئی تعمیرات سے متعلق معاملات کو حل کیا جائے۔حکومتی حکم نامے کے مطابق، ایسے منظور شدہ نقشوں کی قانونی حیثیت پر اٹھنے والے سوالات کے حل کے لیے متعلقہ ترقیاتی اتھارٹیز کو ضلع پنچایتوں کی جانب سے منظور کیے گئے نقشوں کی تفصیلات فراہم کی جانی ہیں اور ان کی بنیاد پر معاملات کا تصفیہ کیا جانا ہے ۔