معاہدے پر غوروخوض کیساتھ ایران کو جکڑ کر رکھیں گے : ٹرمپ
واشنگٹن ۔ 30 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چہارشنبہ کو کہا کہ اردن میں امریکی افواج پر حملے کے جواب میں امریکہ ایران پر انتہائی سخت حملہ کرے گا۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب ہماری باری ہیانہوں نے کہا کہ واشنگٹن مستقبل میں کسی مرحلے پر تہران کے ساتھ معاہدے ک

واشنگٹن ۔ 30 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چہارشنبہ کو کہا کہ اردن میں امریکی افواج پر حملے کے جواب میں امریکہ ایران پر انتہائی سخت حملہ کرے گا۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب ہماری باری ہیانہوں نے کہا کہ واشنگٹن مستقبل میں کسی مرحلے پر تہران کے ساتھ معاہدے کے امکان پر غور کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیاکہ ہم ان پر بہت سخت حملہ کریں گے، ہم انہیں مکمل طور پر کچل دیں گے۔ٹرمپ نے مزید بتایا کہ انہیں مصر کی بحیرہ روم کے ساحل پر واقع دمیاط بندرگاہ میں امریکہ کی ملکیت گیس ذخیرہ کرنے والے ایک جہاز پر ڈرون حملے کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی ہے۔انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہاکہ مجھے اس معاملے پر بریفنگ دی گئی ہے۔ یہ پہلے جیسے واقعات کا ہی تسلسل ہے، لیکن معاملات جلد معمول پر آ جائیں گے۔دریں اثنا ٹرمپ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی اس رپورٹ پر بھی ردعمل دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کو چین میں تیار کردہ کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائل لانچرز کی پہلی کھیپ، جو مجموعی طور پر 400 یونٹس تک ہو سکتی ہے، ملنے کی توقع ہے۔اس پر ٹرمپ نے کہاکہ اگر ایسا ہوا تو یہ میرے لیے حیران کن ہوگا۔ ایسی چیزیں ہو سکتی ہیں، لیکن یہ واقعی غیر متوقع ہوگی۔انہوں نے یاد دلایا کہ اس ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ انہیں چینی صدر ژی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن پر اعتماد ہے، کیونکہ دونوں قائدین نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے جنگ میں مداخلت نہیں کریں گے۔رائٹرز کی رپورٹ سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہاکہ صدرژی نے مجھے بہت واضح انداز میں یقین دلایا تھا کہ وہ اس معاملے میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن اگر ایسا ہوا تو مجھے یقیناً شدید مایوسی ہوگی۔دریں اثنا برطانوی بحری سلامتی کمپنی ایمبری نے چہارشنبہ کے روز اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا کہ مصر کے بحیرہ روم پر واقع دمیاط بندرگاہ میں امریکہ کی ملکیت ایک تیرتے ہوئے گیس ذخیرہ کرنے والے جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب مصری وزارتِ پیٹرولیم نے اپنے بیان میں بندرگاہ پر آگ لگنے کی تصدیق کی، تاہم ڈرون حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اب تک کسی گروپ یا ملک نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ادھر ایران نے منگل کی رات دیر گئے تصدیق کی کہ اس نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے خطے میں تعینات امریکی افواج پر ایران کے اچانک حملے کی کوشش ناکام بنا دی، جبکہ اردنی فوج نے بتایا کہ اس نے پانچ ایرانی میزائل مار گرائے۔یہ کشیدگی ایسے وقت میں دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے جب رواں ماہ جون میں طے پانے والا عارضی امریکی۔ایرانی معاہدہ آبنائے ہرمز کے مستقبل پر اختلافات کے باعث ختم ہو گیا۔ آبنائے ہرمز دنیا میں توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین بحری راستہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اسے اس آبی گزرگاہ پر اختیار حاصل ہے اور وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر محصولات عائد کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اور عالمی برادری اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔