نیتن یاہو اور زیلنسکی کے ساتھ دونوں ملاقاتیں مثبت رہیں: ٹرمپ
ٹرمپ کا تفصیلات بتانے سے انکار، وائیٹ ہاؤس نے بھی 90 منٹ کی ملاقات کو ثمرآور قرار دیا واشنگٹن ۔ 28 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کی دونوں ملاقاتیں مثبت رہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹرو

ٹرمپ کا تفصیلات بتانے سے انکار، وائیٹ ہاؤس نے بھی 90 منٹ کی ملاقات کو ثمرآور قرار دیا واشنگٹن ۔ 28 جولائی (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ ان کی دونوں ملاقاتیں مثبت رہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر الگ الگ مختصر پیغامات میں کہا کہ انہوں نے دونوں رہنماؤں کے ساتھ مختلف امور پر بات چیت کی، تاہم انہوں نے تفصیلات بیان نہیں کیں۔نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ٹرمپ نے لکھا:میں نے نیتن یاہو اور ایوانِ نمائندگان کے چند ارکان کے ساتھ ایک بہت اچھی ملاقات کی۔ اس دوران ہم نے کئی اہم معاملات اور موضوعات پر گفتگو کی۔زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بارے میں امریکی صدر نے کہا:بہت سے امور پر بات ہوئی۔ ملاقات بہت اچھی رہی۔واضح رہے کہ نیتن یاہو اور زیلنسکی واشنگٹن میں اسرائیل اور یوکرین کے حامی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں شرکت کیلئے موجود تھے۔دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کے لائسنس فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔زیلنسکی نے ”فوکس نیوز” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:انہوں نے ہمیں لائسنس دینے کی منظوری دے دی، جس کے بعد میری امریکی دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ یہ بہت مضبوط امریکی فوجی کمپنیاں ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم پیداواری شراکت داری قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔زیلنسکی نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے دورہ کے دوران انہوں نے صدر ٹرمپ اور امریکی سینیٹرز کو یوکرین کی بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاعی نظام اور انٹرسیپٹر میزائلوں کی ضرورت سے آگاہ کیا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین کے پاس ایسے ڈرونز موجود ہیں جو ایرانی اور روسی ساختہ ڈرونز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع کیلئے اسے مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔امریکی کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہِل میں سینیٹرز سے ملاقات کے بعد زیلنسکی نے کہاکہ اصل مسئلہ بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاعی نظام اور اینٹی بیلسٹک میزائلوں کا ہے۔ یقیناً میں نے انہیں بتایا کہ ہمیں کن چیزوں کی ضرورت ہے۔وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے درمیان ہونے والی ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد ختم ہو گئی۔ملاقات کے بعد نیتن یاھو وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے، جبکہ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اس ملاقات کو “مثبت اور ثمر بخش” قرار دیا۔کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ ٹرمپ کی طرف سے نیتن یاھو اور یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی دونوں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں مثبت اور ثمر آور رہیں۔تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔نیتن یاھو اور ٹرمپ کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات فروری میں ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں کے درمیان پہلی ملاقات ہے۔امریکی صدر کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد سے ٹرمپ اور نیتن یاھو کے درمیان ہونے والی یہ آٹھویں ملاقات ہے، جو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنگ کے لائحہ عمل اور اس کے نتائج سے متعلق تخمینوں میں فرق کے باعث دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔اپنے آخری ملاقات کے دوران جو جنگ شروع ہونے سے تین ہفتے سے بھی کم وقت قبل منعقد ہوئی ، نیتن یاھو نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف حملوں میں اسرائیل کا ساتھ دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔