ملیشیاؤں کے اقدامات عراق کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں: مقتدیٰ الصدر کا انتباہ
بغداد ۔ 28 جولائی (ایجنسیز) عراقی شیعہ قومی دھارے کے رہنما سید مقتدیٰ الصدر نے چہارشنبہ کے روز عراقی سرزمین کو نشانہ بنانے کی مذمت کی، جبکہ اسی وقت انہوں نے ان ”بے باک ملیشیاؤں” کے اقدامات پر بھی تنقید کی جو عراق کو ایک بے فائدہ جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔مقتدیٰ الصدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فار

بغداد ۔ 28 جولائی (ایجنسیز) عراقی شیعہ قومی دھارے کے رہنما سید مقتدیٰ الصدر نے چہارشنبہ کے روز عراقی سرزمین کو نشانہ بنانے کی مذمت کی، جبکہ اسی وقت انہوں نے ان ”بے باک ملیشیاؤں” کے اقدامات پر بھی تنقید کی جو عراق کو ایک بے فائدہ جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہی ہیں۔مقتدیٰ الصدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا:ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بھائیوں کو ہماری خودمختار اور مقدس سرزمین پر حملہ نہیں کرنا چاہیے، اسی طرح بے قابو ملیشیاؤں کو بھی خلیجی عرب ممالک کے بھائیوں کو ہماری مقدس سرزمین کو نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بھائی چارے اور امن کے جذبے کو اپنائیں اور صہیونی امریکی دشمن کے منصوبوں کے پیچھے چل کر بھائیوں کو لڑائی اور باہمی تنازع میں نہ دھکیلیں۔الصدر نے مزید کہا:میں تمام ممالک اور تمام فریقوں کی جانب سے مقدس عراقی سرزمین کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتا ہوں اور ان بے باک ملیشیاؤں کے اقدامات کی بھی مذمت کرتا ہوں، جو عراق کو ایسی جنگ میں گھسیٹنا چاہتی ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں۔انہوں نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امن و امان قائم کرے، ریاستی خودمختاری نافذ کرے، عراقی عوام اور مقدسات کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے اور نفرت انگیز فرقہ وارانہ خیالات کے پیچھے نہ چلے۔مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ عراق اور اس کے عوام کو امن کی ضرورت ہے۔ بہت ہو چکی جنگ، جس نے افسوس کے ساتھ عراق کے تمام وسائل اور وقار کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے اندرون اور بیرون ملک موجود دہشت گرد عناصر سے بھی خبردار کیا جو عراق میں امن خراب کرنے کیلئے فرقہ واریت کو بہانہ بنا سکتے ہیں۔دوسری جانب سعودی وزارت دفاع نے چہارشنبہ کی صبح امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ رابطے اور تعاون سے عراق میں موجود ان ملیشیاؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جو سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں سے منسلک تھیں۔