بھدوہی کا نام سنت روی داس نگر بحال کرنے پر مایاوتی کا اظہار تشکر
عظیم شخصیات کے نام پر قائم کئے گئے دیگر اضلاع کے اصل نام بھی بحال کرنے کا مطالبہ لکھنؤ، 31 جولائی (یو این آئی): بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے بھدوہی ضلع کا نام دوبارہ سنت روی داس نگر کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ ساتھ

عظیم شخصیات کے نام پر قائم کئے گئے دیگر اضلاع کے اصل نام بھی بحال کرنے کا مطالبہ لکھنؤ، 31 جولائی (یو این آئی): بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے بھدوہی ضلع کا نام دوبارہ سنت روی داس نگر کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی ایس پی حکومت کے دور میں عظیم شخصیات کے نام پر قائم کیے گئے دیگر اضلاع کے اصل نام بھی بحال کیے جائیں۔مایاوتی نے جمعہ کو ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بی ایس پی حکومت نے بھدوہی کو ضلع کا درجہ دیتے ہوئے اس کا نام سنت روی داس نگر رکھا تھا، لیکن بعد میں سماجوادی پارٹی کی حکومت نے اس کا نام تبدیل کر دیا تھا۔ اب موجودہ حکومت نے دوبارہ سنت روی داس نگر کا نام بحال کر دیا ہے ، جس پر بی ایس پی ریاستی حکومت کی شکر گزار ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی ایس پی کی چاروں حکومتوں کے دوران انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور عوامی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کئی نئے اضلاع، تحصیلیں، ترقیاتی بلاک، پولیس زون اور رینج قائم کیے گئے تھے ۔ ان میں متعدد اضلاع کے نام دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کے عظیم رہنماؤں، سنتوں اور گروؤں کے نام پر رکھے گئے تھے ۔مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت نے ذات پات کی سیاست اور تنگ نظری کی وجہ سے سنت روی داس نگر، چھترپتی شاہوجی مہاراج نگر، بھیم نگر سمیت کئی اضلاع کے نام تبدیل کر دیے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ برج علاقے کی ترقی کے مقصد سے کاس گنج کو ضلع ہیڈکوارٹر بنا کر اس کا نام مانیہ ور شری کانشی رام نگر رکھا گیا تھا، لیکن سماجوادی پارٹی حکومت نے اس کا نام بھی بدل دیا۔بی ایس پی سربراہ نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سنت روی داس نگر کا نام بحال کیا گیا ہے ، اسی طرح مانیہ ور کانشی رام اور دیگر عظیم شخصیات کے نام پر قائم کیے گئے اضلاع کے اصل نام بھی بحال کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ بی ایس پی کے بانی کانشی رام کی یوم پیدائش 9 اکتوبر سے پہلے یا اسی روز کر لیا جاتا ہے تو بی ایس پی اس پر بھی حکومت کی شکر گزار ہوگی۔