زرعی آبپاشی کیلئے موثر اقدامات ضروری
نظام آباد: 2/ اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق وزیر ورکن اسمبلی بالکنڈہ مسٹر پرشانت ریڈی نے کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت واقع رام پور پمپ ہاؤس کے موٹروں کو دوبارہ کارکرد کرتے ہوئے ریورس پمپنگ کے ذریعے گوداوری کا پانی ایس آر ایس پی فلڈ کنال میں منتقل کرنے کے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہو

نظام آباد: 2/ اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سابق وزیر ورکن اسمبلی بالکنڈہ مسٹر پرشانت ریڈی نے کالیشورم لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت واقع رام پور پمپ ہاؤس کے موٹروں کو دوبارہ کارکرد کرتے ہوئے ریورس پمپنگ کے ذریعے گوداوری کا پانی ایس آر ایس پی فلڈ کنال میں منتقل کرنے کے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام پور پمپ ہاؤس کا آغاز اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ کالیشورم پروجیکٹ آج بھی ریاست کے لیے ناگزیر ہے اور موجودہ کانگریس حکومت نے اپنے اس اقدام سے خود اس کی اہمیت کو دوبارہ تسلیم کر لیا ہے۔ مسٹر پرشانت ریڈی نے اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس قائدین مسلسل یہ پروپیگنڈہ کرتے رہے کہ کالیشورم پروجیکٹ ناکام ہو چکا ہے۔مسٹر پرشانت ریڈی نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے اور کالیشورم پروجیکٹ کی مکمل صلاحیت سے استفادہ کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے کسانوں کو وافر مقدار میں آبپاشی کا پانی فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔اس کا کوئی استعمال نہیں اور اس پر خرچ ہونے والے لاکھوں کروڑ روپے ضائع ہو گئے ہیں، لیکن آج اسی پروجیکٹ کے ایک اہم حصے رام پور پمپ ہاؤس کو شروع کرکے پانی کی لفٹنگ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کا سابقہ پروپیگنڈہ بے بنیاد تھا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فلڈ کنال پر واقع راجیشور راؤ پیٹ اور مپکال پمپ ہاؤسز کو بھی فوری طور پر کارکردکیا جائے اور پوری فلڈ کنال کو پانی سے بھر دیا جائے تاکہ جگتیال اور نظام آباد اضلاع کے تقریباً دو لاکھ ایکڑ زرعی رقبے کو مسلسل آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیا جا سکے۔