آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان مذاکرات آخری مرحلے میںداخل
تہران، 3 اگست (آئی اے این ایس) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری اہم مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے وا

تہران، 3 اگست (آئی اے این ایس) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری اہم مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کو جلد حتمی شکل دیے جانے کی امید ہے۔ وزیر خارجہ نے مذاکرات کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی آئی آر آئی بی کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمزکو دوبارہ کھولنا یا بند رکھنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ٹریفک سیپریشن اسکیم کے تحت آبنائے ہرمز میں ایک نئے بحری راستے کے تعین پر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس نئے راستے کا مقصد دونوں ممالک کے خودمختار حقوق کا احترام کرتے ہوئے ایران کے قومی مفادات، سلامتی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔ بقائی نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے جہاز رانی کے نظام کو مزید منظم اور محفوظ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع سید مجید ابن الرضا نے کہا کہ ایران ہر دشمن کی دھمکی کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور اسے صرف نفسیاتی جنگ قرار دے کر نظرانداز نہیں کرتا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہم نہ تو کسی خطرے سے حیران ہوں گے اور نہ ہی خاموش رہیں گے۔ ہم ہر دھمکی کو اپنی دفاعی تیاری، قوتِ مزاحمت اور عسکری صلاحیت میں اضافے کا موقع سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف مزید حملوں کو فی الحال مؤخر کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی اور کنٹرول مزید سخت کر دیا تھا۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ ماہ امریکی فوج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر متعدد فضائی حملے کیے تھے۔ امریکہ کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں اور ان کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ عالمی تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز اور تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی۔ آبنائے ہرمز دنیاکی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہے۔