حیدرآبادی گولڈن گرل ایشا کی نظریں اولمپلکس پر
حیدرآباد ، 4 اگست (سیاست نیوز) حیدرآباد کی ابھرتی ہوئی شوٹر ایشا سنگھ نے آئی ایس ایس ایف ورلڈکپ میں اپنا دوسرا انفرادیگولڈ میڈل جیت کر نہ صرف عالمی شوٹنگ میں اپنی صلاحیتوں کا ایک بار پھر لوہا منوایا بلکہ یہ بھی ثابت کردیاکہ وہ آنے والے برسوں میں بین الاقوامی مقابلوں، خصوصاً عالمی چمپئن شپ اور او

حیدرآباد ، 4 اگست (سیاست نیوز) حیدرآباد کی ابھرتی ہوئی شوٹر ایشا سنگھ نے آئی ایس ایس ایف ورلڈکپ میں اپنا دوسرا انفرادیگولڈ میڈل جیت کر نہ صرف عالمی شوٹنگ میں اپنی صلاحیتوں کا ایک بار پھر لوہا منوایا بلکہ یہ بھی ثابت کردیاکہ وہ آنے والے برسوں میں بین الاقوامی مقابلوں، خصوصاً عالمی چمپئن شپ اور اولمپکس میں ہندوستان کی سب سے مضبوط امیدوں میں شمار کی جائیں گی۔ گولڈ میڈلجیتنے کے بعد ایک خصوصی انٹرویو میں ایشا سنگھ نے اپنے سفر، تربیت، ذہنی تیاری اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہرکامیابی نئی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے اور اب ان کی پوری توجہ مستقبل کے بڑے مقابلوں میں مسلسل عمدہ کارکردگی برقرار رکھنے پر مرکوز ہے۔ ایشا نے بتایا کہ فائنل کے دوران ان کی پوری توجہ صرف اپنے اگلے شاٹ پر تھی۔ ان کے مطابق شوٹنگ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ایک لمحے کی بے توجہی بھی نتیجہ تبدیل کر سکتی ہے، اس لیے وہ ہر شاٹ کو نئے آغازکی طرح لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈل جیتنے کی خوشی ضرور ہوتی ہے، لیکن اصل مقصد اپنے کھیل میں مسلسل بہتری لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خواب صرف عالمی مقابلوں میں میڈل جیتنا نہیں بلکہ مستقبل میں اولمپکس میں بھی سنہری کامیابی حاصل کرکے ملک کا پرچم بلند کرنا ہے۔ ان کے مطابق ہر مقابلہ انہیں نئے تجربات دیتا ہے، جن سے وہ آئندہ چیلنجز کے لیے خود کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ایشا سنگھ نے اپنے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کم عمری میں شوٹنگ کا آغاز کیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ شوق ایک واضح ہدف میں تبدیل ہوگیا۔ اس کھیل میں صرف نشانہ بازی کافی نہیں بلکہ ذہنی مضبوطی، صبر، نظم و ضبط اور مسلسل محنت ہی اصل کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔ ان کی مشق صرف شوٹنگ رینج تک محدود نہیں ہوتی بلکہ جسمانی فٹنس، ذہنی یکسوئی، تکنیکی مہارت اور مقابلے کے دباؤ سے نمٹنے کی باقاعدہ تیاری بھی ان کے معمول کا حصہ ہے۔