امیت شاہ ایوان میں حاضر ہو کر تمام اہم معاملات پر جواب دیں
ملک میں نظم و نسق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار، پپو یادو پر حملہ، رام مندرچندہ چوری سمیت دیگر پر بحث سے گریز کا الزام:کانگریسنئی دہلی۔3؍اگست ( ایجنسیز) کانگریس نے پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپو یادو پر حالیہ حملہ کے معاملے کو لیکر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ سے پارلیمنٹ میں ج

ملک میں نظم و نسق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار، پپو یادو پر حملہ، رام مندرچندہ چوری سمیت دیگر پر بحث سے گریز کا الزام:کانگریسنئی دہلی۔3؍اگست ( ایجنسیز) کانگریس نے پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپو یادو پر حالیہ حملہ کے معاملے کو لیکر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس قائدین نے اس واقعے کو ملک میں نظم و نسق کی صورت حال پر سنگین سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے اٹھائے گئے اہم مسائل پر بحث سے گریز کر رہی ہے۔کانگریس کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے کہا کہ ملک میں نظم و نسق کی صورت حال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر بچوں کے ساتھ پیش آئے واقعہ کے بعد اب ایک رکن پارلیمنٹ پر حملہ اس بات کی علامت ہے کہ حالات بگڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو ایوان میں آ کر یہ واضح کرنا چاہیے کہ ملک کو اس صورتحال تک کیوں پہنچنے دیا گیا اور ایسی وارداتیں کیوں پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ اور اس سے وابستہ اہم شخصیات کے نظریاتی پس منظر پر سوال اٹھانا جمہوری حق ہے۔ ان کے مطابق یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا ان افراد کا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔انہوں نے سناتن دھرم کی توہین کے الزامات میں راہول گاندھی، پپو یادو اور اودھیش پرساد کے خلاف درج ایف آئی آر پر بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پران پرتشٹھا تقریب میں شریک افراد کے کردار پر سوال اٹھانا کسی بھی طرح غلط نہیں کہا جا سکتا۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ملو روی نے بھی پپو یادو کی پریس کانفرنس کے دوران پیش آئے واقعہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک منتخب رکن پارلیمنٹ اپنی بات رکھنے کے دوران بھی محفوظ نہیں ہے تو عام شہری کی سلامتی کے بارے میں آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حملہ آور کی شناخت عوام کے سامنے لائی جائے، سکیورٹی میں ہوئی کوتاہی کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور آئندہ ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی اختلاف یا احتجاج کے دوران چپل یا تھپڑ جیسے اقدامات کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ دریں اثنا کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے پارلیمنٹ کے بار بار ملتوی ہونے پر حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے استحصال، پپو یادو پر حملے، ایودھیا رام مندر سے متعلق تنازعہ اور دیگر اہم معاملات پر بحث سے بچ رہی ہے۔وینوگوپال نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو خود ایوان میں موجود ہو کر اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ جو وزیر داخلہ گزشتہ اجلاسوں میں مسلسل ایوان میں موجود رہتے تھے وہ موجودہ اجلاس کے دوران ایوان میں کیوں نہیں آ رہے ہیں۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری مباحثہ کا سب سے بڑا فورم ہے اور حکومت کو اپوزیشن کے اٹھائے گئے سوالات سے گریز کرنے کے بجائے ان کا جواب دینا چاہیے۔