’جنترمنتر احتجاج حکومت کیخلاف تھا ملک کیخلاف نہیں‘
جمہوری اختلافِ رائے سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کیلئے ضروری: عمرعبداللہ جموں، 7اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیٹ (این ای ای ٹی) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ ان کا احتجاج حکومت ک

جمہوری اختلافِ رائے سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کیلئے ضروری: عمرعبداللہ جموں، 7اگست (یو این آئی) جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نیٹ (این ای ای ٹی) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ ان کا احتجاج حکومت کے خلاف تھا، نہ کہ ملک کے خلاف۔ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ حکومت کی مخالفت کو ملک کی مخالفت کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے ۔ جمہوری اختلافِ رائے سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور ان کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں انہوں نے حکومت کی مخالفت اور ملک کی مخالفت کے درمیان فرق کو واضح کیا تھا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جمہوریت میں اس فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی مخالفت، ملک کی مخالفت نہیں ہوتی۔ اکثر حکومت کی مخالفت ملک کے مفاد میں ہوتی ہے کیونکہ جہاں غلطیاں ہوتی ہیں، وہاں ان کی اصلاح ممکن ہو جاتی ہے۔ نیٹ امتحان کے تنازعہ اور اس کے بعد شروع ہونے والی طلبہ تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس احتجاج نے احتساب کو فروغ دیا ہے اور مستقبل میں امتحانی نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے ۔تاہم احتجاج کے بعد طلبہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے ، ان کے خلاف مقدمات درج کرنے ، سوشل میڈیا کے ذریعے دباؤ ڈالنے اور پولیس کارروائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ان طلبہ کے خلاف کارروائی بند ہونی چاہیے کیونکہ ان بچوں نے ملک کے خلاف کچھ نہیں کیا۔جھارکھنڈ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ، جہاں مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں، انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے اپیل کی کہ وہ طلبہ سے بات چیت کریں اور ان کے خدشات کو دور کریں۔