کارگل جنگ کے دوران نانا پاٹیکر نے فوج میں شامل ہونے کے لیے اداکاری کا کام روک دیا تھا
پاٹیکر کے نزدیک یہ کوئی بہادری کا کارنامہ نہیں بلکہ ملک کی خدمت تھی۔ ممبئی: 1999 میں کارگل جنگ کے عروج کے دوران، نانا پاٹیکر نے اپنے اداکاری کے کیریئر کو کچھ عرصے کے لیے روک دیا اور جنگی محاذ پر ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کی اجازت طلب کی۔ یہ ان کی زندگی کا ایک ایسا باب تھا جسے اس تجربہ کار اداکار ن

پاٹیکر کے نزدیک یہ کوئی بہادری کا کارنامہ نہیں بلکہ ملک کی خدمت تھی۔ ممبئی: 1999 میں کارگل جنگ کے عروج کے دوران، نانا پاٹیکر نے اپنے اداکاری کے کیریئر کو کچھ عرصے کے لیے روک دیا اور جنگی محاذ پر ہندوستانی فوج میں شامل ہونے کی اجازت طلب کی۔ یہ ان کی زندگی کا ایک ایسا باب تھا جسے اس تجربہ کار اداکار نے برسوں بعد “کون بنے گا کروڑ پتی” (KBC) میں شرکت کے دوران یاد کیا۔ پاٹیکر نے اپنی 1991 کی فلم “پرہار: دی فائنل اٹیک” کے لیے مسلح افواج کے ساتھ سخت تربیت حاصل کی تھی، جس میں انہوں نے میجر وی ایس چوہان کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کے لیے، جسے انہوں نے خود لکھا اور ہدایت کاری بھی کی تھی، انہوں نے ‘مراٹھا لائٹ انفنٹری’ کے ساتھ تین سال تک تربیت حاصل کی تھی۔ جب کارگل تنازعہ شروع ہوا تو پاٹیکر نے فوج کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کر کے فوجیوں کے ساتھ شامل ہونے کی درخواست کی، لیکن انہیں بتایا گیا کہ ایسی اجازت صرف وزیر دفاع ہی دے سکتے ہیں۔ اگست 2024 میں اپنی فلم “ونواس” کی تشہیر کے سلسلے میں میں شرکت کے دوران، پاٹیکر نے میگا اسٹار امیتابھ بچن کو بتایا: “میں ہمارے وزیر دفاع جارج فرنینڈس جی کو جانتا تھا، اس لیے میں نے انہیں فون کیا۔ انہوں نے بھی کہا کہ یہ ناممکن ہے۔” “میں نے ان سے کہا، ‘کمیشن (فوج میں باقاعدہ شمولیت) تو چھ ماہ میں ہو جاتا ہے، میں نے تو تین سال گزارے ہیں۔’ انہوں نے پوچھا کہاں، تو میں نے انہیں مراٹھا لائٹ انفنٹری کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں بتایا۔ پھر انہوں نے پوچھا، ‘کب جانا چاہتے ہو؟’ میں نے کہا، ‘آج ہی۔'” بالآخر اداکار کو اجازت مل گئی اور وہ اگست 1999 میں کارگل کے جنگی علاقے میں پہنچے، جہاں انہوں نے لائن آف کنٹرول کے قریب فوجیوں کے ساتھ وقت گزارا۔ پاٹیکر نے بتایا کہ انہوں نے تنازعے کے دوران فوجیوں کے ساتھ تقریباً 60 دن گزارے اور دراس، لیہہ، کپواڑہ، بارہمولہ اور سوپور سمیت مختلف مقامات کا دورہ کیا۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا، “جب میں سری نگر پہنچا تو میرا وزن 76 کلوگرام تھا۔ واپسی تک میرا وزن 56 کلوگرام رہ گیا تھا۔” انہوں نے بتایا کہ وہ ‘کوئیک ری ایکشن ٹیم’ کا حصہ رہے اور بعد ازاں سری نگر کے ایک فوجی ہسپتال میں بھی خدمات انجام دیں۔ “وہاں شہید فوجیوں کی لاشیں لائی جاتی تھیں۔ یہ منظر انتہائی تکلیف دہ ہوتا تھا کیونکہ بہت سی لاشیں بری حالت میں ہوتی تھیں۔ آبائی علاقوں میں روانہ کرنے سے پہلے ان میتوں کو احتیاط کے ساتھ قابلِ دید حالت میں لایا جاتا تھا۔ میں نے وہاں چھ دن کام کیا۔ “ایک دن، جب میں وارڈ میں گھوم رہا تھا تو پیچھے سے کسی نے آواز دی، ‘ارے نانا!’ میں اس شخص کو پہچانتا تھا اور اس نے خود کو ایک لمبی چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔ میں نے اسے چھوا تو وہ بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے گزشتہ چار دنوں سے بخار ہے۔ وہ میدانِ جنگ میں واپس جانا چاہتا تھا مگر جا نہیں سکتا تھا۔ پھر اس نے دکھایا کہ اس کی ٹانگیں کٹ چکی تھیں،” انہوں نے واقعہ بیان کرتے ہوئے۔ پاٹیکر کے نزدیک یہ کوئی بہادری کا کارنامہ نہیں بلکہ ملک کی خدمت تھی۔ “میں تمام اداکاروں سے یہی کہتا ہوں۔ زندگی میں خوشیوں اور غموں کا اپنا حصہ ہوتا ہے۔ اسی احساس اور تجربے کی بنیاد پر اداکاری کرتے رہیں۔ جب تک خوشی اور غم کے بارے میں آپ کا نظریہ بدلتا نہیں رہے گا، آپ زیادہ عرصے تک اس شعبے میں خود کو برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔ “باہر نکلیں اور اپنے اردگرد دیکھیں؛ وہاں ہر طرح کے غم اور خوشیاں موجود ہیں۔ لیکن خوشی اور غم کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر بدلنا چاہیے،” انہوں نے کہا۔