سابق جرمن انٹیلی جنس چیف کی گرفتاری ، یورپ کو تشویش
برلن ۔ 10 اکتوبر (ایجنسیز) یورپی خفیہ ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جرمنی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ آؤگْسٹ ہاننگ کی گرفتاری کے بعد خفیہ معلومات افشا ہونے کا خدشہ کس حد تک درست ہے اور اس سے کیا خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جرمنی کی فارن اینٹیلیجنس سروس، بی این ڈی، کے سابق سربراہ ہاننگ کو اس

برلن ۔ 10 اکتوبر (ایجنسیز) یورپی خفیہ ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جرمنی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ آؤگْسٹ ہاننگ کی گرفتاری کے بعد خفیہ معلومات افشا ہونے کا خدشہ کس حد تک درست ہے اور اس سے کیا خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جرمنی کی فارن اینٹیلیجنس سروس، بی این ڈی، کے سابق سربراہ ہاننگ کو اس ہفتے جاسوسی اور غداری کے شبہ میں گرفتار کیا گیا، جس سے یورپ کے سیکوریٹی اور انٹیلی جنس حلقوں میں تشویش پھیل گئی ہے۔ بی این ڈی میں ان کے سابق چیف آف اسٹاف کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ جرمن میڈیا کے مطابق بظاہر اس معاملے کا روس سے تعلق نہیں ہے۔ تاہم سینکڑوں خفیہ دستاویزات کی مبینہ خرید و فروخت اور غیر ملکی حکام تک انٹیلی جنس معلومات پہنچائے جانے کے الزامات نے بی این ڈی کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب یورپ میں سیکوریٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ جرمنی کے ایک سیکوریٹی عہدیدار نے اس صورتِ حال کو مکمل تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی این ڈی کے شراکت دار خفیہ اداروں کے ساتھ تعلقات پر اس کے ممکنہ اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔